نیشنل کانفرنس کے صوبائی اجلاس میں مرحوم شیر کشمیر کے یوم پیدائش کے پروگرام کو حتمی شکل
سرینگر/30نومبر: موجودہ گورنر انتظامیہ کے طریقہ کار کو ریاست کیلئے تشویشناک قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جس طرح سے جموں وکشمیر کے تمام معاملات نئی دلی اور ناگپور میں چلائے جارہے ہیں وہ ریاست کے مستقبل کیلئے کسی بھی زاویئے سے سوز مند نہیں۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک صوبائی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ اجلاس شیر کشمیرشیخ محمد عبداللہ کے 113ویں یوم پیدائش کے پروگرام کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں منعقد کیا گیاتھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہاکہ پہلے سابق پی ڈی پی اور بھاجپا حکومت نے ناگپور سے ڈکٹیشن لیکر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زبردست نقصان پہنچایا اور اب نئی دلی گورنر انتظامیہ کو استعمال کرکے ریاستی اداروں کا تہیہ تیغ کررہی ہے۔ موجودہ گورنر انتظامیہ ریاست کی بالادستی کو زبردست نقصان پنچانے کی مرتکب ہورہی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ صوبہ کشمیر ناصر اسلم وانی نے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ 113ویں یوم پیدایش کے پروگرام کے بارے میں اجلاس کو تفصیل سے آگاہ کیا اور پروگرام کو آخری شکل دی گئی۔ اُنہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ مزار قائد پر 5دسمبر کو تشریف لاکر مرحوم رہنما کو اپنا خراج عقیدت پیش کریں۔ اِس سلسلے میں اُن کے مقبرہ واقع نسیم باغ میں (شیر کشمیر ریڈنگ روم ہال) صبح صادق ہی قرآن خوانی، کلمات، دُعائے مغفرت کی مجلس آراستہ ہوگی۔ جبکہ مساجد، زیارتگاہوں اور خانقاہوں میں مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے کلمات اور دعائے مغفرت ادا کئے جائینگے۔ پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ اور دیگر قایدین اجتماعی فاتحہ خوانی اور تقریب میں شمولیت کرینگے۔ شیر کشمیر بھون جموں، لداخ اور کرگل کے علاوہ ریاست کے دیگر حصوں میں بھی اِسی نوعیت کی تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے اس سلسلے میں پہلے پروگرام مرتب کر رکھا ہے جو عنقریب شائع ہوگا۔
Comments are closed.