سرینگر/30نومبر/سی این آئی/ بھگت سنگھ کو ’’دہشت گرد ‘‘کہنے کی پاداش میں جموں یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کو معطل کردیا گیا ہے ۔ پروفیسر کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی میں طلبہ نے پروفیسر کے خلاف کیا سخت برہمی کااظہار جبکہ پروفسیر نے اس حوالے سے بتایا کہ جان بوجھ کر بھگت سنگھ کو دہشت گرد جان بوجھ کر نہیں بتایا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں یونیورسٹی میں تعینات ایک پروفیسر محمد تاج الدین کو جمعہ کے روز یونیورسٹی انٹظامیہ نے اُس وقت معطل کردیا جب پروفیسر کا وہ ویڈیو وائرل ہوا جب انہوںنے طلبہ کو ایک سبق پڑھانے کے دوران بھگت سنگھ کو دہشت گرد کہا ۔ اس ضمن میں موصوف پروفیسر نے بتایا کہ یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کہا بلکہ میں لینن پڑھارہا تھا جس کا ایک بھائی دہشت گردی کے ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ ویڈیووائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ میں کافی غم و غصہ پایا گیا اور انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے موصوف کے خلاف تحریری شکایت درج کی جس کے بعد انتظامیہ نے مذکورہ پروفسیر کو معطل کردیا۔ پروفیسر نے اپنی صفائی میں کہا کہ جو لوگ عدم تشدد کے حامی ہیں خاص کر گاندھیاتی نظریہ کے ان کے سامنے کوئی بھی ہلاکت دہشت گردانہ ہے ۔ میں نے اسی تناظر میں سبق کے دوران طلبہ سے بات کی تاہم طلبہ نے اس بات کو غلط انداز میں سمجھ لیا میرا یہ باالکل بھی مطلب نہیں تھا کہ میں کسی کا دل دکھائوں میں اس پر معذرت پیش کرتا ہوں۔ انہوںنے کہا کہ طلبہ کو ویڈیو بنانے سے پہلے مجھ سے بات کرنی چاہئے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.