جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافہ اور لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بڑھتے واقعات قابل تشویش /ہنس راج آہر

سیکورٹی ایجنسیاں پوری طرح الرٹ ،وادی کشمیر امن کی صورتحال قائم ہورہی ہے

سرینگر/30نومبر: وادی کشمیر میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں ہورہے اضافے پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے امور داخلہ کے وزیر ہنس راج آہر نے کہا کہ سرحد پار کے عناصر امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں ۔انہوں نے لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق دہلی میں ایک تقریب کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی امورداخلہ کے وزیر ہنس راج آہر نے کہا کہ وادی کشمیر میںحالیہ واقعات کے تناظر میں سیکورٹی فورسز کو الرٹ رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ دنوں میں دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو کہ تشویش کے قابل ہے ۔انہوں نے کہا کہ دراندازی کا مقصد یہ ہے کہ وادی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال کو درہم برہم کیا جائے لیکن سیکورٹی فورسز حالات کو بنائے رکھنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ۔ہنس راج نے کہا کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں ریاست جموں وکشمیر میں چوکسی برتی جارہی ہے اور سیکورٹی ایجنسیوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک اور چوکس رہیں جبکہ جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے بھی سیکورٹی ایجنسیاں پوری طرح الرٹ پر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ وادی کشمیر امن کی صورتحال قائم ہورہی ہے لیکن سرحد پار کے عناصر سے خوش نہیں ہیں اور وہ لگاتار اس کو شش میں ہیں کہ حالات خراب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دراندازوں کو بھارتی علاقے میں داخل کرنے کیلئے سرحد پار سے ہی ہر طرح کی مدد مل رہی ہے ۔آہر نے واضح کیا کہ سرحد پار عناصر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں سرگرم جنگجوؤں کو حالات خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی۔وزیرنے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ساتھ شمالی مشرقی ریاستوں میں جنگجویانہ سرگرمیوں کے بڑھتے واقعات پر مرکزی حکومت سنجیدگی کے ساتھ قریبی نظر رکھی ہوئی ہے۔

Comments are closed.