سرینگر24نومبر : چھتر گام فوجی کیمپ کے نزدیک فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے بڈ گام کے نوجوان نے سکمز میں دم توڑ دیا۔ادھر کھڈونی کولگام میں فائر نگ کے ایک واقعہ میں شدید زخمی ہونے والی چو دہ سالہ لڑکی صد ر اسپتال سرینگر میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی۔ دونوں کو اپنے اپنے آ با ئی علاقوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔ان کی نما زجنازوں میں ہزاروں لوگ شر یک ہوئے۔ سی این ایس کے مطا بق گذشتہ روز شام کے وقت چھتر گام فوجی کیمپ کے نزدیک فائرنگ کے واقعے میں اشفاق احمد گنائی والد نذیر احمد گنائی ساکنہ ماگرے پورہ چاڈورہ بڈگام زخمی ہوا تھا جسے سکمز صورہ منتقل کیا گیا تھا۔ زخمی اشفاق علی الصبح زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔جب اسکی لاش آ بائی علاقہ لائی گئی تو وہاں کہرام گئی اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس ہلاکت کے خلاف زوردار نعرہ بازی کی۔ اس ہلاکت کے خلاف ماگرے پورہ چاڈورہ بڈگام اور اسکے مضافا ت میں مکمل ہڑتا ل رہی۔ بعد دوپہر مذ کورہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں لو گ شریک ہوئے۔ نامہ نگار راجہ بلا ل کے مطا بق شفاق احمد پیشے سے ترکھان تھا اور اپنے پیچھے بیوی اور دو بچوں کو چھوڑ گیا۔ خیا ل رہے کہ اشفاق کے بارے میں اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ اْس پر فوجی اہلکاروں نے گولیاں چلائیں تاہم فوج نے بعد ازاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اْس کو جنگجوؤں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔پولیس کی طرف سے بھی جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ اشفاق کو جنگجوؤں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے کہا کہ فوجی کیمپ میں موجود اہلکاروں نے جونہی گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں تو فوج کی خصوصی آپریشن ٹیم فوری طورپر جائے وقوع پر پہنچی اوروہاں حالات کامشاہدہ کرنے لگی۔ اس دوران فوجی ٹیم نے اشفاق کو خون میں لت پت پایا جس کے سر اور ٹانگ میں گولیاں پیوست تھیں ۔جمعرات کو جنگجوؤں اور فورسز کے مابین گولیوں کا تبادلہ کھڈونی میں قائم فورسزکیمپ کے نزدیک ہوا تھا۔ فائر نگ کے دوران مسکان جان ساکنہ وانہ گنڈ زخمی ہوگئی تھی۔زخمی مسکان کو نزدیکی کیموہ اسپتال لیجایا گیا جہاں سے اسے سرینگرمنتقل کیا گیا تھا اور وہ دو روز سے وہ ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں زیر علاج تھی۔اسپتال ذرائع کے مطابق مسکان کوما میں چلی گئی تھی۔ڈاکٹروں نے اگر چہ اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم وہ سنیچروار کی صبح اْس نے آخری سانس لی ہے۔ جب اسکی ہلاکت کی خبر اسکے آ با ئی علاقہ میں پہنچا ئی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ قانونی لوازمات کے بعد جب اسکی میت گھر پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی۔اس واقعے کے خلاف علاقے میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے ہیں جبکہ علاقہ میں مکمل ہڑتا ل کی گئی۔ بعد میں سینکڑوں لوگوں نے ا س کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کو پرنم آ نکھوں کی موجود گی میں سپرد لحد کیا گیا۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.