بڈگام میں ایک عام شہری کی مشتبہ ہلاکت پرعمرعبداللہ نے اُٹھائے سوالات

اشفاق کی ہلاکت پر شکوک و شبہات کو ریاستی انتظامیہ دورکرنے کا مطالبہ

سرینگر/24نومبر: بڈگام میں عام شہری کی ہلاکت پر سرکار شبہات کو دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ واد ی میں لوگ عدم تحفظ کے شکار ہوچکے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاست کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ بڈگام میں ایک نوجوان اشفاق احمد کی ہلاکت پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس ہلاکت میں پائے جارہے شکوک و شبہات کو دور کریں ۔ سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں مطالبہ کیا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ اشفاق کی ہلاکت پر اصل حقائق سامنے رکھ کر لوگوں کو مطمین کریں ۔انہوںنے کہا کہ وادی کے مخدوش حالات اور مار دھاڑ سے لوگ عدم تحفظ کے شکار ہوگئے ہیں۔عمر عبداللہ نے سوگوار کنبہ کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعابھی کی۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے جمعہ کی شام وسطحی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقہ میں 50آر آر کیمپ چترگام کے نزدیک اشفاق احمد گنائی نامی نوجوان کو کسی نے اس کے سر میں گولیاں ماری جس کی وجہ وہ شدید زخمی ہوا جس کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں آج صبح وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ ادھر ہلاکت پر دفاعی ترجمان کرنل راجیش کیلہ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اشفاق احمد کو جنگجوئوں نے گولیاں ماری اور یہ واقع فوجی کیمپ سے 5سو سے چھ سے میٹر کی دوری پر وقوع پذیر ہوا ۔ اور گولیاں کی آواز سن کر فوج کی ایک ٹیم فوری طور پر وہاں پہنچی تھی تاہم مشتبہ جنگجو وہاں سے فرار ہوچکے تھے ۔

Comments are closed.