بی جے پی کے لئے رام مندراور کشمیر محض ووٹ حاصل کرنے کا موضوع /کانگریس

انتخابی ریلیوں میں بھاجپا جو کشمیر کے بارے میں کہہ رہی ہے وہ سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں

سرینگر/24نومبر: کانگریس نے بی جے پی کو ہر انتخاب سے پہلے رام مندر اورکشمیر کے مسئلے کو اچھالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پارٹی کے لئے صرف ووٹ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کشمیر سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابی ریلیوں میں جو کہہ رہی ہے وہ سفید جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ وہ متنازعہ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کے مسئلے کو انتخابی ریلیوں میں اس لئے اُچھال رہی ہے تاکہ لوگوں سے ووٹ حاصل کئے جاسکیں ۔ کانگریس کے ترجمان مینش تیواری نے بھاجپا پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ پارٹی مذہب کے نام پر سیاست کرکے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کے دور میں ملک میں امن و شانتی تھی تاہم بھاجپا نے مذہبی منافرت پھیلا کر کانگریس کی ستر سالہ محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی ہندوستانیوں کو جو ترقی کا خواب دکھا رہے ہیں وہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے حقیقت میں عام انسان غریبی سے جھوج رہا ہے ۔ تواری نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر کو بھی اب ووٹ بٹورنے کا ذریع موضوع بنالیا ہے ۔ کانگریس نے کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہر انتخاب سے پہلے رام مندر کے مسئلے کو اچھالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پارٹی کے لئے صرف ووٹ حاصل کرنے کی ایک چال ہے۔ کانگریس کے ترجمان مینش تیواری نے صحافیوں کو بتایا، ’’بی جے پی کے پاس بھگوان رام یا رام مندر پر کچھ کرنے کے لئے نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ساڑھے چار سال سے مرکز میں ہے۔ ایک پارٹی جو خود پر اعتماد کرتی ہے کہ لوگوں کو ان کے کام کی بنیاد پر پاس جانا چاہئے، لیکن رام مندر کہاں بنے گا ، یہ معاملہ گزشتہ 30 سال سے لٹکا ہوا ہے۔واضح رہے کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کی معیاد اب قریب ہے اور ووٹروں کو لبھانے کیلئے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات لگارہے ہیں ۔

Comments are closed.