نوجوان کی ہلاکت کے واقع کی تحقیقات کرنے اور متاثرہ کنبہ کے حق میں ریلیف کا مطالبہ
سرینگر/24نومب: محبوبہ مفتی نے بڈگام ہلاکت پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی ایجنسیوں کو اس بات کا پابند بنائیں کہ کسی بھی عام شہری کی ہلاکت نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ تلاشی کارروائیوں کے دورا لوگوں کی جائیداد کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ سابق ریاستی وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بڈگام ضلع میں گذشتہ روز فوجی کیمپ کے نزدیک ایک نوجوان کی ہلاکت پر سخت برہمی اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ہلاکتوں سے عوام کے اذہان میں فورسز کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے گورنر سرکار پر زور دیا کہ وہ وادی میں عام لوگوں کی ہلاکت کا سلسلہ روکنے کیلئے حفاظتی ایجنسیوں پر دبائو ڈالیں اور ان کو ہدایت دیں کہ وہ جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عام لوگوں کی جائیداد کو نقصان نہ پہنچائے۔انہوںنے اس واقعہ کی جوڑیشل انکائوری کا مطالبہ کرتے ہوئے سوگوار کنبہ کے حق میں ریلیف کامطالبہ بھی کیا ہے ۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے جمعہ کی شام وسطحی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقہ میں 50آر آر کیمپ چترگام کے نزدیک اشفاق احمد گنائی نامی نوجوان کو کسی نے اس کے سر میں گولیاں ماری جس کی وجہ وہ شدید زخمی ہوا جس کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں آج صبح وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ ادھر ہلاکت پر دفاعی ترجمان کرنل راجیش کیلہ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اشفاق احمد کو جنگجوئوں نے گولیاں ماری اور یہ واقع فوجی کیمپ سے 5سو سے چھ سے میٹر کی دوری پر وقوع پذیر ہوا ۔ اور گولیاں کی آواز سن کر فوج کی ایک ٹیم فوری طور پر وہاں پہنچی تھی تاہم مشتبہ جنگجو وہاں سے فرار ہوچکے تھے ۔ اشفاق احمد گذشتہ رات سے سرینگر کے سکمز میں زیر علاج رہنے کے بعد آج صبح زندگی کی جنگ ہارگیا۔ اس ہلاکت پر وادی میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔
Comments are closed.