طالب علم کی ہلاکت کے خلاف کپوارہ ،ہندوارہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہڑتال سے زندگی مفلوج نماز جمعہ کے بعد شہر خاص میں نوجوانوں اور پولیس و فورسز کے مابین تصادم آرائیاں

سرینگر/25اگست/سرحدی ضلع کپوارہ میں طالب علم کی فورسز کے ہاتھوں کے خلاف دوسرے دن بھی ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ،کاروباری ادارے ٹھپ رہے ، پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ،اسکولوں اور کالجوں میں درس و تدریس کا کام بھی معطل رہا جبکہ ناخوشگوار واقعا ت کو ٹالنے اور لوگوں کے جاں و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ نے انٹر نیٹ سہولیات پر پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی تھی ۔ادھر شہر خاص میں اس وقت سنسنی دوڑ گئی جب نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور پولیس و فورسز پر خشت بھاری کی ۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق ہفرڈہ جنگل میں فورسز کے ہاتھوں ڈگری کالج میں زیر تعلیم طالب علم شاہد بشیر کی ہلاکت کے خلاف دوسرے دن بھی ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ،کاروباری ادارے ٹھپ رہے ، پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ، سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی جبکہ اسکولوں اور کالجوں میں درس و تدریس کا کام متاثر رہا ۔ جاں بحق ہوئے طالب علم کے لواحقین کے ساتھ لوگوں کی کثیر تعداد نے اظہار تعزیت کی ۔ادھر سرحدی ضلع کپوارہ ،ہندوارہ ،لنگیٹ ،کرالہ گنڈ ، ترہگام ،طارت پورہ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے ، ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے اور لوگوں کے جاں و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ نے انٹر نیٹ سہولیات پر دوسرے دن بھی پابندی جاری رکھی ، پولیس و فورسز کو چپے چپے پر تعینات کر کے حفاظت کے اقدامات سخت کر دئیے گئے تھے ۔ ادھر شہر خاص کے نوہٹہ ،بہوری کدل ، خانیار ،راجوری کدل ،کاوڈارہ علاقوں میں اس وقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب نماز جمعہ کے بعد نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوںنے عام شہریوںکی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ،تاریخی جامع مسجد کے ارد گرد پولیس نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے ان کا تعاقب کیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوںنے پولیس و فورسز پر سنگباری شروع کر دی ۔ تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس کا استعمال کیا جس سے شہر خاص کے کئی علاقوں میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرناپڑ ا ۔پولیس و فورسز اور نوجوانوں کے درمیان تصاد م آرائیوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے بعد حالات دوبارہ معمول پر آگئے ۔

Comments are closed.