ہلاکتوں کیخلاف وادی میں ہمہ گیرہڑتال
بندشوں اورانٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر
کشمیریونیورسٹی میں طلاب کاپُرامن احتجاج،آج شہرخاص میں بندشیں
سری نگر:کے این این / فتح کدل ہلاکتوں کیخلاف مزاحمتی لیڈرشپ کی جانب سے دی گئی کال پرجمعرات کوشہرسری نگرسمیت پوری وادی میں احتجاجی ہڑتال رہی جبکہ اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرشہرخاص کے کچھ علاقوں میں بندشیں عائدرہیں اورحساس مقامات پولیس وفورسزدستوں کوسریع الحرکت رکھاگیاتھا۔تاہم شہرمیں پورے دن صورتحال پُرامن رہی ۔تاہم سر نگرمیں مواصلاتی بریک ڈاﺅن اورجنوبی کشمیرمیں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے سالانہ امتحانات کی تیاریوں میں مصروف عمل ہزاروں طلاب اور میڈیاسے وابستہ افرادکوسخت دشواریوں کاسامناکرناپڑا۔اُدھرجمعرات کوخانیاراورفتح کدل میں مہلوک جنگجوﺅں اورنوجوان کے ہاں تعزیت پُرسی کیلئے آنے والے لوگوں کاتانتا بندھا رہا۔اس دوران کشمیریونیورسٹی کے مختلف کیمپس اورہوسٹلوں میں رہنے والے طلاب نے فتح کدل میں 2مقامی عساکر،ایک نوجوان اورپلوامہ میں دوران شب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جنگجو نوجوان کی ہلاکت کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔ بدھ کی صبح شہرخاص کے سیدعلی اکبرفتح کدل علاقہ میں لشکرطیبہ کے مقامی کمانڈرمعراج الدین بنگرﺅساکنہ فتح کدل، جنگجونوجوان فہدمشتاق ساکنہ عقلمیرخانیاراورمالک مکان کے بیٹے رئیس احمدکی ہلاکت کیخلاف مشترکہ مزاحمتی لیڈرشپ کی کال پرجمعرات کوپوری وادی میں احتجاجی ہڑتال رہی ۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرشہرخاص کے کئی علاقوں میں بندشیں عائدرہیں جبکہ سبھی حساس مقامات پرپولیس وفورسزکے اضافی دستے تعینات رہے ۔تاہم دن بھرشہرخاص سمیت پورے سرینگرمیں حالات پُرامن رہے ۔اس دوران جمعرات کوخانیاراورفتح کدل میں مہلوک جنگجوﺅں اورنوجوان کے ہاں تعزیت پُرسی کیلئے آنے والے لوگوں کاتانتا بندھا رہا۔مزاحمتی قیادت کی کال پرہڑتال اوراضافی سیکورٹی اقدامات کے باعث سری نگرشہرسمیت وادی کے سبھی اضلاع میں تمام اہم اورمصروف رہنے والے بازاراورکاروباری ادارے بندرہے جبکہ اسکول اورکالج بھی مقفل رہے ۔شہرکے اہم اورتاریخی مقام لالچوک سمیت سیول لائنزمیں پورے دن سناٹارہاتاہم یہاں سے مسافر بردارچھوٹی گاڑیاں اکادُکادوڑتی نظرآئیں جبکہ لوگ اپنی نجی گاڑیوں میں سوارہوکرمطلوبہ مقامات کی جانب جارہے تھے ۔شہرکے نچلے ،اوپری اورنشیبی ونواحی علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی اوریہاں بھی بازارو ں میں سناٹارہا۔اس دوران سری نگرشہرمیں مسلسل دوسرے روزبھی انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن جاری رہاجسکے نتیجے میں سالانہ امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہزاروں طلباءوطالبات اورذرائع ابلاغ سے وابستہ افرادکوسخت دشواریوں کاسامناکرناپڑا۔خیال رہے سری نگرشہرمیں بدھ کی صبح فتح کدل میں جھڑپ چھڑتے ہی موبائل انٹرنیٹ سروسزکاگلاگھونٹ دیاگیاتھا،اوریہ مواصلاتی بریک ڈاﺅن جمعرات کوبھی جاری رہاتاہم کچھ علاقوں میں جمعرات کودوپہرکے وقت موبائل انٹرنیٹ سروسزکاٹوجی بحال کیاگیا۔اُدھرشمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیرمیں بھی احتجاجی ہڑتال کااثردکھائی دیا،اورسبھی 9اضلاع بشمول بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ ،گاندربل ،بڈگام ،کولگام ،اسلام آباد،شوپیان اورپلوامہ کے ضلعی ،تحاصیل اوربلاک صدرمقامات پربازاراورکاروباری مراکزبندرہے ،اوریہاں بھی مسافرگاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں ۔اس دوران سری نگرکووادی کے مختلف اضلاع وعلاقوں سے ملانے والی شاہراہوں سے بھی مسافرگاڑیاں غائب رہیں ،جس وجہ سے بہت کم قلیل تعدادمیں ان علاقوں سے لوگوں نے سری نگرکارُخ کیا۔جنوبی کشمیرمیں انٹرنیٹ سروسزکی سست رفتاری کاسلسلہ جمعرات کوبھی جاری رہاجسکے نتیجے میں ان اضلاع کے طلاب کوبھی امتحانات کی تیاریوں میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن یاسست رفتاری سے متاثرہ علاقوں کے طلاب نے گورنرانتظامیہ سے اپیل کی کہ سالانہ امتحانات کے پیش نظرمواصلاتی سہولیات پرعائدکئے جانے والے قدغن کوختم کیاجائے تاکہ اُنھیں امتحانات کی تیاریوں میں مزیدمشکلات سے دوچارنہ ہوناپڑے ۔ادھرذرائع ابلاغ بشمول پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسے وابستہ افرادنے بھی انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کوسوہان رُوح قراردیتے ہوئے حکومت سے مانگ کی کہ مواصلاتی سروسزکوبندشوں سے الگ رکھاجائے ۔اس دوران کشمیریونیورسٹی کے مختلف کیمپس اورہوسٹلوں میں رہنے والے طلاب نے فتح کدل میں 2مقامی عساکر،ایک نوجوان اورپلوامہ میں دوران شب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جنگجو نوجوان کی ہلاکت کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔ معلوم ہواکہ کشمیریونیورسٹی کے زکورہ کیمپس میں واقع ہوسٹلوں ،اوردیگرہوسٹلوں میں قیام کرنے والے درجنوں طالب علم جمعرات کویونیورسٹی کے کیمپس میں جمع ہوئے اورانہوں فتح کدل اورپلوامہ ہلاکتوں کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔ خیال رہے بدھ کی صبح فتح کدل سری نگرمیں 2مقامی جنگجواورایک نوجوان جاں بحق ہوئے تھے جبکہ پلوامہ میں دوران شب تحریک المجاہدین سے وابستہ ایک اعلیٰ ڈگری یافتہ جنگجونوجوان جومحض 15روزقبل جنگجوﺅں کی صفوں میں شامل ہواتھا،جاں بحق ہوا۔اُدھرمعلوم ہواکہ مزاحمتی لیڈرشپ کی جانب سے جمعہ کواحتجاجی مظاہرے کئے جانے کی کال کے پیش نظرآج شہرخاص میں احتیاطی طورپربندشیں جاری رہیں گی جبکہ کسی بھی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے پولیس وفورسزکے دستوں کوحساس علاقوں ومقامات پرمتحرک رکھاجائیگا۔
Comments are closed.