4490سرپنچوں اور35096پنچوں کاہوگاانتخاب
22اضلاع کے316بلاکوں میں 58لاکھ سے زیادہ ووٹروں کو رائے دہی کاحق
سری نگر:کے این این / دفعہ 35Aکے معاملے پردواہم علاقائی مین اسٹریم جماعتوں نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی کی جانب سے بائیکاٹ اورمزاحمتی قیادت کی ببانگ دہل مخالفت کے بیچ ریاست جموں وکشمیرمیں13برس بعدکرائے گئے بلدیاتی انتخابات کے بعداب ریاست میں 4490پنچایتوں کی تشکیل کیلئے9مراحل میں انتخابات ہورہے ہیں ،اوراس سلسلے میں پہلے مرحلے کی پنچایتی پولنگ کیلئے23اکتوبرکونوٹیفکیشن جاری کردی جائیگی جبکہ پہلے مرحلے میں 17نومبرکوووٹ ڈالے جائیں گے ۔ بلدیاتی انتخابات کے4مراحل کے دوران کشمیروادی میں پولنگ کی مجموعی شرح فیصددوہندسوں سے بھی کم رہنے کے باوجودگورنرانتظامیہ ریاست میں پنچایتی انتخابات کرانے کے فیصلے پرکاربندہے ،اوراس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ۔معلوم ہواکہ گورنرانتظامیہ کی خواہش اورکوشش ہے کہ بلدیاتی انتخابات کابائیکاٹ کرنے والی مین اسٹریم جماعتیں این سی اورپی ڈی پی پنچایتی انتخابات میں بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرحصہ لیں تاکہ مجوزہ پنچایتی انتخابات میں دیہی علاقوں کے لوگ زیادہ تعدادمیں انتخابی عمل میں شامل ہوں ۔اس سلسلے میں ریاستی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایاکہ گورنرستیہ پال ملک نے این سی اورپی ڈی پی لیڈرشپ تک یہ پیغام پہنچادیاہے کہ اگران دونوں سیاسی جماعتوں کوبراہ راست انتخابی عمل میں شام ہونے کے حوالے سے سیاسی یاسیکورٹی سطح کی کوئی مشکل درپیش ہے تووہ بالواسطہ طورپراس انتخابی عمل میں حصہ لیں ،اوردرپردہ طورپراپنے اُمیدواروں کومیدان میں اُتاریں ۔ذرائع کاکہناتھاکہ بلدیاتی انتخابات میں اُمیدواروں کی کمی کے بعداب گورنرانتظامیہ کی یہ کوشش ہے کہ پنچایتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ اُمیدوارحصہ لیں تاکہ اسکے نتیجے میں پولنگ کی شرح میں بھی بہتری آسکے۔تاہم ذرائع نے بتایاکہ اس میں انتظامیہ کیلئے سب سے بڑامسئلہ اُمیدواروں کوسیکورٹی فراہم کرناہے خیال رہے کہ9مراحل میں کرائے جانے والے پنچایتی انتخابات کاشیڈول پہلے ہی رتیب دیاگیاہے ،جسکے تحت22اضلاع کی حدودمیں آنے والے316بلاکوں میں 4490پنچایتوں کاقیام عمل میں لاناہے ،جسکے لئے 4490پنچوں اور35096سرپنچوں کاانتخاب عمل میں لانامقصودہے ۔ریاستی الیکشن حکام کی جانب سے مرتب کردہ انتخابی شیڈول یاکلینڈرکے مطابق پنچایتی انتخابات 9مراحل میں ہونگے ،جسکے تحت ماہ نومبرکی17،20،24،27اور29تاریخ کے بعدماہ دسمبرکی پہلی،4،8اور11تاریخ کوووٹ ڈالے جائیں گے ۔غورطلب ہے کہ پنچایتی انتخابات کاانعقادموسم سرمامیں ہورہاہے ،اوراس دوران ریاست بالخصوص کشمیروادی میں بارشیں اوربرفباری بھی ہوسکتی ہے ،جس وجہ سے انتخابی عمل میں خلل پڑسکتاہے۔معلوم ہواکہ پنچایتی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے 23اکتوبرکوالیکشن نوٹیفکیشن جاری کی جائیگی ،اوراسی طرح سے سبھی مراحل کیلئے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کی جائیگی ۔خیال رہے ریاست ِ جموں وکشمیرمیں آخری بار7برس قبل اپریل مئی2011میں پنچایتی انتخابات این سی ،کانگریس مخلوط سرکارکے دورمیں کرائے گئے تھے،اوراُن منتخبہ پنچایتوں کی معیادجولائی2016میں مکمل ہوگئی ۔اب لگ بھگ2برس کی تاخیرکے بعدکرائے جانے والے پنچایتی انتخابات کے دوران4490سرپنچوں اور35096پنچوں کاانتخاب عمل میں لانے کیلئے58لاکھ 12ہزارسے زیادہ ووٹروں کورائے دہی کاحق حاصل ہوگا۔ادھرمعلوم ہواکہ پنچایتی انتخابات میں ووٹ شماری کاعمل بلدیاتی انتخابات سے بالکل ہی مختلف ہوگاکیونکہ پولنگ کاوقت مکمل ہونے کے فوراًبعددوپہر2بجے ووٹوں کی گنتی ہواکرے گی ۔اس دوران معلوم ہواکہ لگ بھگ ایک ماہ تک جاری رہنے والے پنچایتی انتخابات کے دوران اُمیدواروں ،سیاسی کارکنوں اورپولنگ مراکزکے تحفظ وسلامتی کویقینی بنانے کیلئے ہزاروں کی تعدادمیں جموں وکشمیرپولیس اورمرکزی پولیس فورس کے اہلکارتعینات کئے جائیں گے ،اوراس مقصدکیلئے مرکزی سرکارنے ریاست کواضافی فورسزکمپنیاں بھیجنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔بتایاجاتاہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے پنچایتی انتخابات کے پیش نظرمرکزی پولیس فورسزکی400اضافی کمپنیوں کوجموں وکشمیرمیں الیکشن ڈیوٹی کیلئے تعینات کرنے کافیصلہ لیاہے ،اوراس سلسلے میں گورنرانتظامیہ کویقین دہانی کرائی ہے۔
Comments are closed.