جموںو کشمیر کے لئے کانگریس اور بی جے پی کا موقف ایک ہے
سرینگر: عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدراور سیول سوسایٹی کی رابطہ کمیٹی کے سرگرم ممبر مظفر شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ آل انڈیا کانگریس کی مرکزی کمیٹی نے جموں و کشمیر میں پردیش کانگریس کو پنچایتی اور میونسپل الیکشن میں حصہ لینے کا حکم دیکر ریاست کی پوری فضاءمیں ایک بار پھر فرقہ واریت ،نفرت و بیزاری کا زہر کھول دیا ۔
انہوں نے کہا کہ کسی سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ کانگریس نے 1953 ءمیں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کرنے کے بعد ہی انہیں گیارہ سال بے بنیاد ”کشمیر سازش “ کیس میں الجھا کر آہستہ آہستہ ریاست جموں و کشمیر اور لداخ کو دی گئی آئینی خصوصی ضمانتوں اور پوزیشن کا جنازہ نکال دیا ۔
ان کا کہناتھا کہ ریاست کی اندرونی خود مختاری پر شب خون مارا گیا ۔وزیر اعظم اور صدر ریاست کے نام تبدیل کئے گئے مرکزی الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کا دائیرہ ریاست تک وسیع کر دیا گیا۔ کانگریس کے ہاتھوں جموں و کشمیر میں اپنی تباہ شدہ کھنڈرات پر بی جے پی والے اپنی تعمیر کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب دفعہ 370 اور 35-A کے تحت ریاست کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کی جو عذرداریاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیںاِن کا دفاع اور چلینج کرنے کے لئے جموں و کشمیر سیول سوسایٹی کی رابطہ کمیٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں دس جوابی عذرداریاںخارج ہونے تک پنچایتی اور میونسپل چناﺅ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرکے عوام کی خواہشات کی قدر کی لیکن آج کانگریس پارٹی نے بائیکاٹ کی یکجہتی پر کاری ضرب لگاتے ہوئے یہ بات ثابت کر دی کہ بی جے پی اور کانگریس پارٹی کے نام الگ الگ تو ضرور ہیں لیکن جموں و کشمیر اور لداخ کے بارے میں ان کا موقف ایک ہی ہے ۔
مظفر شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج جب آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے ریاست کے خصوصی دفعات 370 اور 35-A کے خاتمہ کی بات کی تو کانگریس نے بھی بی جے پی کا ساتھ دیکر ریاست میں ہونے والے چناﺅ میں حصہ لینے کا فیصلہ کرکے سیکولرازم کا جامہ اپنے ہی ہاتھوں تار تار کر دیا ۔انہوں نے کہا ابھی35اے کے خلاف گہرے بادل فضاءپر چھائے ہوئے ہیں،اور بائیکاٹ کی گرج سنائی دے رہی ہے ۔ہر زہن مضطرب اور پریشان ہے اسی صورت حال میں کانگریس نے بی جے پی اور آر ایس ایس کا رول ادا کیا جب کہ لوگ آج ہر جماعت اور فرد پر نگاہ جمائے ہوئے ہیں۔
Comments are closed.