نئی دہلی ،(یواین آئی)وزیراعظم نریندرمودی نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی گھریلوپیداوار (جی ڈی پی )کی شرح نمو دوسال بعد پھر سے آٹھ فیصد کے پار پہنچنے پر سنیچر کو کہاکہ ہندستان نہ صرف دنیا میں سب سے تیز ترقی پانے والی معیشت بنا ہے بلکہ تیزی سے غریبی مٹانے والا ملک بھی بن گیاہے ۔
مسٹر مودی نے یہاں ایک تقریب میں انڈیا پوسٹ پیمنٹ بینک (آئی پی پی بی )کا افتتاح کرنے کے بعد کہاکہ پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کے اعدادوشمار مضبوط معیشت کی علامت ہیں ۔
ہندستان دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی پانے والی معیشت بننے کے ساتھ ساتھ سب سے تیز رفتار سے غریبی مٹانے والا ملک بھی بن گیا ہے ۔
انھوں نے انڈونیشیا میں جاری ایشیائی کھیلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہندستانی دستہ نے اب تک کے ریکارڈ میڈل جیتے ہیں اور پہلی سہ ماہی اقتصادی ترقی نے بھی ایک میڈل دیاہے ۔
نامور لوگوں کے فون پر دئے گئے قرض کا ایک ایک پیسہ وصولا جائیگا :مودی
وزیراعظم نریندرمودی نے سرکاری بینکوں کے بڑھتے ہوئے غیر فعال اثاثہ (این پی اے )کے لئے پوری طرح سے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سنیچر کو کہاکہ پچھلی حکومت کی مدت کار میں 14۔2008کے دوران تقریبا 36لاکھ کروڑ روپئے کے قرض دیکر معیشت کو بارودی سرنگ پر بیٹھا دیاگیاتھا ،لیکن انکی حکومت ’فون بینکنگ ‘پر دئے گئے قرض کا ایک ایک پیسہ وصول کریگی۔
مسٹر مودی نے یہاں ڈاک محکمہ کے انڈیا پوسٹ پیمنٹ بینک (آئی پی پی ای)کا افتتاح کرنے کے بعد کہاکہ اب انکا بھی اس بینک میں کھاتہ کھل گیاہے اور انھیں بھی کیوآر کوڈ والا کارڈ دیاگیاہے ۔انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا،’’جو کھاتانہیں ہے وہ بھی کھاتہ تورکھتاہے ۔‘‘واضح رہے کہ مسٹر مودی نے پچھلے عام انتخابات کی مہم کے دوران بدعنوانی پر لگام لگانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہاتھا ’’نہ کھاؤں گا نہ کھانے دونگا۔‘‘
وزیراعظم نے سرکاری بینکوں کی کے بڑھتے ہوئے غیر فعال اثاثہ (این پی اے )کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سال 2014میں انکی حکومت جب اقتدارمیں آئی تب پتہ چلا ہے کہ جسے کانگریس حکومت دولاکھ کروڑ روپئے کا این پی اے بتارہی تھی وہ دراصل 9لاکھ کروڑ روپئے تھا ۔پچھلی حکومت نے ملک کے ساتھ دھوکہ کیا اور کانگریس اور ’نامداروں ‘نے ملک کی معیشت کو بارودی سرنگ پر ڈال دیاہے ۔معیشت کو ایسی حالت میں چھوڑا گیاتھا کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوتا ،لیکن انکی حکومت نے رات دن محنت کرکے معیشت کو باہر نکالا اور بارودی سرنگ کو ناکارہ بنادیاہے ۔
Comments are closed.