گورنر نے ریاست میں انڈیا پوسٹ پے منٹس بنک کو متعارف کیا

سرینگر :ملک میں بینکنگ کی ایک نئی سہولت متعارف کرنے کے ایک حصے کے طورگورنر ستیہ پال ملک نے آج یہاں ایس کے آئی سی سی میں جے اینڈ کے پوسٹل سرکل کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب پر انڈیا پوسٹ پے منٹس بنک(آئی پی پی بی) کو متعارف کیا۔

اس موقعہ پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، گورنر کے مشیر بی بی ویاس، سابق ریاستی وزیر اور ایم ایل اے آسیہ نقاش، کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد، سکاسٹ کشمیر کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد، ڈائریکٹر جنرل امپا لوکیش دت جھا،گورنر کے پرنسپل سیکرٹری اُمنگ نرولا، کمشنر سیکرٹری قبائلی امور آر کے بھگت، کمشنر سیکرٹری مال شاہد عنائت اللہ، صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان، سیکرٹری خوراک و امور صارفی ڈاکٹر عبدالرشید، چیف پوسٹ ماسٹر جنرل جے اینڈ کے سرکل پی ڈی چھرینگ،چیئرمین جے اینڈ کے بنک مشتاق احمد اور دیگر کئی شخصیات بھی موجود تھیں۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بینکنگ نیٹ ورک کو متعارف کرنے سے بھارت کی پوسٹل سروس نے ایک اور سنگ میل طے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹر نیٹ اور دیگر ٹیکنالوجی کو متعارف کئے جانے کے باوجود ڈاکخانوں کی اہمیت آج کی تاریخ میں بھی برقرار ہے اور اس کو دیہی علاقوں میں رابطہ کا بنیادی جز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے پوسٹ محکمہ کی جانب سے ملک بھر میں یہ سہولت متعارف کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دیہی اقتصادیات کو فروغ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو بینک تک رسائی فراہم کرنے کا وزیر اعظم نریندر مودی کا نظریہ دُور رس نتائج کا حامل ثابت ہوا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے کئی فلیگ شِپ سکیمیں متعارف کی ہیں جو اس سمت میں ثمر آور ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ دیہی علاقوں کے لوگ اس سہولت سے بھرپور استفادہ کریںگے۔
گورنر نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں جموں، کٹھوعہ، اودہمپور، راجوری، سرینگر، اننت ناگ، بارہ مولہ اور لیہہ میں انڈیا پوسٹ پے منٹ بنک کی8 شاخیں قائم کی جائیں گی اور یہ تمام شاخیں فوری طور کام کرنا شروع کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں قائم1.55 لاکھ ڈاکخانوں کو انڈیا پوسٹ پے منٹس بینک کے ساتھ 31 دسمبر تک جوڑا جائے گا۔

اس موقعہ پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس پروگرام کو متعارف کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس فلاحی سکیم کو زمینی سطح پر موثر بنانے سے دیہی اقتصادی سرگرمیوں میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکخانے آج کی تاریخ میں بھی ملک بھر میں بیش قیمت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس ادارے کو زمینی سطح پر مزید مضبوط بنانے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے اُٹھائے جارہے اقدامات کی سراہنا کی۔

اس دوران تقریب پر ریاست کے پوسٹ ماسٹر جنرل نے آئی پی پی بی کا مکمل خاکہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے علاوہ مائیگرینٹ ورکروں، کواپریٹو سوسائٹیز اور ڈیری فیڈریشنوں کے ملازمین، بُزرگ پنشنروں، تاجروں، طالب علموں، گھریلو خواتین کو اس سکیم کے دائرے میں لائے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بینکنگ کا ایک سادہ طریقہ ہے اور اس کے اے ٹی ایم یا ایس ایم ایس پر کوئی چارج وصول نہیں کیا جائے گا۔

پوسٹ ماسٹر جنرل نے اس موقعہ پر گور نر ستیہ پال ملک اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو مومینٹوز پیش کئے۔اس موقعہ پر گورنر ستیہ پال ملک اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے” فائنانشل انکلوزن“ کا ایک خصوصی کو¿ر اجراءکیا۔بینکنگ سہولیت متعارف کرنے کی تقریب پر مقامی دستکاروں کے آئی پی پی بی کھاتے کھولے گئے اور گورنر و ممبر پارلیمنٹ سرینگر نے کھاتے داروں میں کیو آر کارڈ تقسیم کئے۔

ملک بھر کے1.55 لاکھ ڈاکخانے آئی پی پی بی کے جوڑے جائیں گے جس سے ملک بھر کے لوگوں کو مالی خدمات دستیاب رہیں گی۔ اس سہولت سے ملک میں بینکنگ نظام کا سب سے بڑا نیٹ ورک قائم ہوگا۔یہ جن دھن یوجنا کی ایک توسیع ہے جس نے ملک کو بینکنگ نظام کے دائرے میں لایا تھا۔آئی پی پی بی بینکنگ نظام کو لوگوں کی دہلیز تک لے جارہا ہے۔

آئی پی پی بی کی خصوصیات یہ بھی ہے کہ اس میں کاغذ کا استعمال نہیں ہوگا اور آدھار کو محفوظ رکھتے ہوئے لین دین کیا جائے گا۔اس سہولت کی مدد سے فوائد (سبسڈی، وظیفہ، پنشن وغیرہ)کو مستحقین کے کھاتوں میں براہ راست منتقل کرنے میں بھی مدد ملے گی اور اس طرح وہ لاکھوں لوگ بنکنگ کے دائرے میں آئیں گے جو ابھی تک اس سہولیت سے محروم ہیں۔

Comments are closed.