جنگجوئوں کے اہل خانہ کو ہراساں نہ کیا جائے
کشمیری پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کی پولیس سربراہ سے اپیل
سری نگر: وادی کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیم ’حزب المجاہدین‘ کے ہاتھوں اغوا کے بعد رہا کئے گئے کشمیری پولیس اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں نے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید سے اپیل ہے کہ جنگجوو¿ں کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کا عمل بند کیا جائے۔
حزب المجاہدین نے گذشتہ چند روز کے دوران انتقامی کاروائی کے تحت اغواکئے گئے پولیس اہلکاروں کے سبھی 11 رشتہ داروں کو رہا کردیا ہے۔ تنظیم کے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو نے پولیس کی طرف سے گرفتار کئے گئے جنگجوئوں کے رشتہ داروں کی رہائی کے لئے تین دن کی مہلت دے دی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک آڈیو بیان میں کہا ہے ’آج ہم آپ کو آخری وارننگ دیتے ہیں کہ آپ کے پاس ہمارے جتنے بھی رشتہ دار ہیںجن کو آپ نے بلاوجہ قید کرکے رکھا ہے، ان کو تین دن کے اندر اندر رہا کردو، اگر تین دن کے اندر اندر اُن کو رہا نہیں کیا گیاتو تین دن کے بعد آپ کے گھر والے ہمارے ہاتھوں محفوظ نہیں رہیں گے‘۔ انہوں نے کہا ہے ’ہم آپ کے گھر والوں کو قید نہیں رکھ سکیں گے،ہمارے پاس صرف ایک ہی سزا ہے ، اور آپ اس سزا سے بخوبی واقف ہیں۔
آپ ہمارے بھائیوں کا کیریئر تباہ کرنا چاہتے ہو، اس لئے انہیں بلاوجہ پی ایس اے کے تحت جیل میں ڈالتے ہو۔ اگر آپ باز نہیں آئے تو وہ دن دور نہیں جب آپ کے بچے آپ کے سامنے نہیں ہوں گے‘۔ ریاض نائیکو نے آڈیو بیان میں کہا کہ اغوا کئے گئے پولیس اہلکاروں کے سبھی رشتہ داروں کو رہا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’اس بار ہم نے آپ کے گھروالوں کو صحیح سلامت اور باعزت طریقے سے واپس چھوڑ دیا۔ لیکن دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔ دوبارہ ایسا ہی ہوگا جیسے آپ کے کرتوت ہوں گے۔ آپ اسے ہماری شرافت یا وارننگ سمجھ سکتے ہیں‘۔
نائیکو کو بیان میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’یہ جنگ ہے،جو خطا ہمارے گھروالوں کی ہے، وہی خطا آپ کے گھر والوں کی بھی ہے۔ آپ ہمارے بھائیوں پر پی ایس اے عائد کرکے اپنی پراموشن کراتے ہو۔ پھر ان ہی پیسوں سے اپنے بچوں کا کیریئر بناتے ہو۔ آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ کی جنگ ہمارے ساتھ ہے، یا ہمارے گھر والوں کے ساتھ‘۔ انہوں نے کہا ہے ’ہم کشمیری پولیس اور ان کے کنبوں کے ساتھ کچھ نہیں کرنا چاہتے تھے ، لیکن آپ لوگوں نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ ہم نے آپ کے لڑکوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کو اس لئے اٹھایا تھا تاکہ آپ لوگوں کو احساس ہوجائے کہ جب کسی ماں سے اس کا لڑکا جدا کیا جاتا ہے تو اس پر کیا گذرتی ہے۔ ہم نے آپ کے رشتہ داروں کو اس لئے اغوا کیا تاکہ ہم آپ کو بتا سکیں کہ ہم آپ کے کنبوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔ اس دوران رہا کئے گئے پولیس اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں نے پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید سے اپیل ہے کہ جنگجوئوں کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کا عمل بند کیا جائے۔
انہوں نے پولیس سربراہ سے یہ اپیل اپنے الگ الگ ویڈیو بیانات میں کی ہے جن کو ظاہری طور پر حزب المجاہدین کے جنگجوئوں نے ریکارڈ کیا ہے۔ زبیر احمد بٹ نامی ایک نوجوان جن کو جنگجوو¿ں نے اغوا کیا تھا، نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے ’میں پولیس حکام بالخصوص پولیس سربراہ ایس پی وید سے اپیل کرتا ہوں کہ مجاہدین (جنگجوئوں) کے گھر والوں کو نہ ستایا جائے۔ ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ نہ کی جائے۔ ان کے گھر والوں کو اپنے بیٹوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہوتی ہے۔ آج انہوں نے ہمیں رہا کردیا لیکن یہ ہمیں کل نہیں چھوڑیں گے۔ جنگجوئوں نے ہمارے ساتھ کوئی مارپیٹ یا زیادتی نہیں کی‘۔
خیال رہے کہ جنگجوئوں نے مبینہ انتقامی کاروائی کے تحت اغوا کئے گئے پولیس اہلکاروں کے سبھی قریبی رشتہ داروں کو جمعہ کی شام دیر گئے تک رہا کردیا۔ یہ پیش رفت ریاض نائیکو کے معمر والد اسد اللہ نائیکو اور لشکر طیبہ جنگجو لطیف ٹائیگر کے والد غلام حسن اور دو سگے بھائیوں زبیر احمد اور ندیم احمد کی رہائی کے بعد سامنے آئی تھی۔ رپورٹوں کے مطابق ریاستی پولیس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کے دوران متعدد افراد بشمول حزب المجاہدین کمانڈر ریاض نائیکو کے معمر والد اور لشکر طیبہ جنگجو لطیف ٹائیگر کے والد اور دو سگے بھائیوںکو حراست میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ متعدد مقامی جنگجوئوں کے گھروں میں داخل ہوکر املاک کی توڑ پھوڑ کی تھی اور مبینہ طور پر ان کے رہائشی مکانات کو نذر آتش کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ جنگجوئوں کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کے اغوا کو اسی کا شاخسانہ قرار دیا جارہا تھا۔ (یو این آئی)
Comments are closed.