آرٹیکل 35اے کی سماعت: حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں: ریاستی سرکار

سری نگر (کے این ایس) ریاست میں نئے گورنر کی تعینات کے بعد دفعہ 35Aسے متعلق ہورہی چہ مگوئیوں کو مسترد کرتے ہوئے ریاست حکومت نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی اگلی شنوائی پر حکومت کی طرف سے نامزد وکلا کیس کی ٹھوس بنیادوں پر پیروی کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے سامنے دفعہ 35Aایک اہم مسئلہ ہے جس کے دفاع کی خاطر حکومت نے مزید ایک سینئر وکیل کی خدمات ھاصل کی ہے۔ریاست میں نئے گورنر ستیا پال ملک کی تعیناتی کے بعد عوامی حلقوں میں یہ افواہ گشت کررہی تھی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس دفعہ 35Aکے حوالے سے ریاستی حکومت کے مو¿قف میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

عوامی حلقوں میں ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چلینج کرنے سے کافی تشویش پائی جارہی تھی جبکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ افواہ جاری تھی کہ نئے گورنر کی تعینات کے بعد ریاست حکومت نئی دہلی کے سامنے سرتسلیم خم کرے گی۔ ادھر ریاستی حکومت نے اتوار کو ان تمام قیاس آرائیوں اور افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست حکومت دفعہ 35Aکے حوالے سے کافی سنجیدہ نظر آرہی ہے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا جائے گا۔

کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے قانون اور پارلیمانی امور کے سیکرٹری عبدالمجید بٹ نے بتایا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے کہ ریاست حکومت دفعہ 35Aکے حوالے سے نرم گوشہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دفعہ 35Aکے حوالے سے ریاستی حکومت کے موقف میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی سنجیدگی کا پتہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہم نے کیس کی پیروی کے لیے مزید ایک وکیل کی خدمات حاصل کی جو اگلی پیشی پر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حوالے سے کیس کی پیروی کریں گے۔قانون اور پارلیمانی امور کے سیکرٹری نے بتایا کہ کیس کی اگلی شنوائی کے موقعے پر ریاست حکومت مکمل طور پر کیس کا دفا ع کرے گی اور اس حوالے سے معروف سکیل تشار مہتا کی خدمات حاصل کی گئی ہے جو آنے والی پیشی پر ریاست حکومت کی طرف سے کیس کی پیروی کریں گے۔انہوں نے واضح کردیا کہ سابق گورنر این این ووہرا کے دور اقتدار میں ریاستی حکومت کی طرف سے 3نامزد وکلا بھی ریاست کی طرف سے کیس کی پیروی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق گورنر این این ووہرا کے دور اقتدار میں ریاست حکومت نے ملک کے 3سینئر اور معروف وکلا کی خدمات حاصل کی تھیں تاہم ان کے مزید معاونت کے لیے ایک اور سینئر وکیل کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو متحدہ طور پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی اگلی شنوائی پر کیس کی پیروی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت دفعہ 35Aکے دفاع کی خاطر ایک جامع رپورٹ تیار کررہی ہے جسے ممکنہ طور پر آئندہ پیشی پر سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ادھر ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینا نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس دفعہ 35Aکی اگلی شنوائی پر ریاستی حکومت ٹھوس بنیادوں پر کسی کی پیروی انجام دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ دفعہ 35Aکے حوالے سے ریاستی حکومت کے موقف میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہ اگر ایسا کچھ ہوتا تو کم از کم مجھے اس حوالے سے تازہ جانکاری مہیا ہوتی۔واضح رہے پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون عبدالحق خان نے اس سے قبل کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکار نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر ملک کے 3معروف اور سینئر وکلا کی خدمات ھاصل کی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا تھا کہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکار نے اُس وقت وکلا کو ایک کروڑ روپے بطور مشورہ فیس بھی ادا کیاتھا۔

Comments are closed.