سرینگر سمیت کشمیر کی پوری حسین اور دلفریب وادی آلودگی سے دوچار
جنگلات کی بے دریخ کٹائی ،دریاؤں کا سکڑنا اور بے ترتیب تعمیرات کا منفی رحجان
سرینگر/05جولائی / وادی کشمیر جنت بے نظیر بڑی تیزی سے جکڑتی جا رہی ہے لیکن ابھی تک اس اہم مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے حالانکہ ریاست کے ایک سابق چیف جسٹس اور دوسرے جج صاحبان کے علاوہ سماج کے مختلف طبقے برابر اپنی تشویش ظاہر کر رہے ہیں جبکہ صورتحال مسلسل سدھرنے کے بجائے بگڑتی ہی جارہی ہے ۔کرنٹ نیو آف انڈیا کے مطابق دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی سے مشہور وادی کشمیر بھی آلودگی کے زبردست اور کالے بادلوں کی لپیٹ میں آچکی ہے جبکہ شہر سرینگر جو وادی کا گرمائی دارالخلافہ ہے میں اب سانس لینا بھی دشوار ہوتا جارہا ہے۔جہاں دنیا کے مختلف حصوں میں پیڑ پودے لگانے پر اربوں اور کروڑوں کی رقم خرچ کی جارہی ہے وہیں وادی میں کھلے عام شہر وگام درختوں کی کٹائی ہورہی ہے اور ساتھ ہی جنگلوں کا بھی صفایا ہورہا ہے۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ سرینگر کے اہم بازاروں میں اب سبزہ بڑی مشکل سے نظر آرہا ہے ناقص اور ابتر پالیسیوں کے نتیجے میں اب دکانوں کے آگے پیڑ کے بجائے ریڈے والے یا آوارہ گاڑیاں نظر آتی ہیں جبکہ عمارتوں اور دوسری تعمیرات کے دوران لوہے اور سیمنٹ ک حد سے زیادہ استعمال عمل میں لایا جارہا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق سرینگر بائی پاس کو وسعت دینے کے معاملے کے دورن ہزاروں درختوں کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔اگرچہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا تاہم مقابلے میں نہ ہونے کے برابر بعد میں پیڑ لگائے گئے ۔اسی طرح دوسری جانب دریاؤں اور خوب صورت ندی نالوں پرناجائز قبضہ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔صاف و شفاف پانی گندہ ہورہا ہے۔دریا سکڑتے جارہے ہیں اور ان کے کناروں پر شاندار شاپنگ کمپلیکس تعمیر ہورہے ہیں ۔لینڈ مافیا اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان ساز باز نے زمینوں کی شکل تک مسخ کردی ہے۔زرعی زمین پر بھی کروڑوں کے محل تعمیر ہورہے ہیں ۔سڑکوں کا ناقص نظام ہونے کے باعث بھی گردوغبار کے بادلوں سے ہوا آلودہ ہوتا جارہا ہے۔اس بیچ پوری وادی میں گاڑیوں کا جو سمندر چلتا پھرتا نظر آرہا ہے اس کے باعث بھی ہوا آلودہ ہوتا جارہا ہے۔بقول ایک سابق چیف جسٹس وادی میں اب آٹو موبائیل ،پولیوشن خطرناک رخ اختیار کرتا جارہا ہے کیونکہ اس کے سبب دریاؤں کا پانی نہ صرف خراب ہورہا ہے بلکہ اس میں آبی جانوروں کی موت ہوجاتی ہے جن میں مچھلیاں وغیرہ شامل ہیں ۔گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی بہتات کو ماہرین ہوائی آلودگی کیلئے بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ وادی کی سڑکوں کی جس طرح سے تعمیر ہورہی ہے وہ بھی باعث حیرانی ہے کیونکہ تقریباََ سبھی سڑکوں پر گردوغبار کے بادل نظر آتے ہیں ۔
Comments are closed.