ذرائع ابلاغ پر قدغن ناکامیوں اور کشمیر دشمن پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش/نیشنل کانفرنس
تاجروں کی آواز دبانے کیلئے حکومتی رویہ قابل مذمت
سرینگر/05جولائی / نیشنل کانفرنس نے تاجر برادری کیساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومت کی تاجر مخالف پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکمران جماعت پی ڈی پی بے تحاشہ طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور دھونس و دباؤ کے ذریعے تاجروں کی آوازِ حق دبانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے تاجر لیڈران کی خانہ نظر بندی، گرفتاریوں اور پُرامن احتجاج کرنے والوں کیخلاف طاقت کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ پی ڈی پی ہر اُس آواز کو دبانے کیلئے غیر قانونی اور غیر آئینی طریقہ کار اختیار کررہی ہے جو کشمیر مخالف پالیسیوں کیخلاف اُٹھ رہیں ہیں۔ اسمبلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کیمرے اور موبائل فون ساتھ لیکر نہ جانے کا حکومتی حکم نامہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ موجودہ حکومت ایسا کرکے اپنی ناکامی، کوتاہیوں اور کشمیر دشمن پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی ناپاک کوشش کررہی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے پریس پر قدغن لگائی ، اس پہلے بھی اس نااہل حکومت نے ذرائع ابلاغ پر غیر اعلانیہ قدغن لگائی۔ جی ایس ٹی کیخلاف تاجر برادری کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ یہ قانون نہ صرف ریاست کی مالی خودمختاری کے منافی ہے بلکہ اس سے ریاست کی اقتصادیات کو بھی زبردست دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایس ٹی کا قانون واقعی سود مند ہوتا تو تاجر ہرگز اس قانون کیخلاف احتجاج نہیں کرتے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جی ایس ٹی ریاست جموں وکشمیر کی خودمختاری کیخلاف ایک اور حملہ ہے اور اس قانون کا اطلاق عمل میں لاکرہمیں حاصل خصوصی پوزیشن کو کمزور کرنے کی مذموم اور ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جی ایس ٹی کا اطلاق ہمیں حاصل خصوصی مراعات کیلئے سم قاتل ہوگا۔ اس قانون کے اطلاق سے ریاست کے ٹیکس معاملات جی ایس ٹی کونسل کے تابع ہونگے اور ریاست کے ٹیکس معاملات پر یہاں کے لوگوں کی کوئی دست رس نہیں ہوگی۔ڈاکٹر کمال نے مرکز کو خبر دار کیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے گریز کرے ۔
Comments are closed.