آرٹیکل 35اے کے حق میں احتجاج

سرینگر (پی آر): حریت کانفرنس نے جموںوکشمیر کے State subject law میں کسی بھی طرح کی ترمیم یا تبدیلی کرنے کی کوششوںکو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جس طرح اس قانون کی بیخ کنی کرنے کیلئے عدالتوں کا سہارا لیا جارہا ہے وہ نہ صرف یہاں کے عوام کے بنیادی حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے بلکہ اس طرح حکومت ہندوستان کے جموںوکشمیر کے عوام کیخلاف اختیار کئے جارہے جارحانہ عزائم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔
State subject Law کے دفاع کے سلسلے میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام کے سلسلے میں حریت کانفرنس کے متعدد رہنماﺅں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں بعد نماز جمعہ ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران یہ بات واضح کی گئی کہ اس قانون میں کسی بھی ترمیم اور تنسیخ کے حربوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائیگا اور کشمیری عوام ایسی ہر طرح کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔
اس دوران حریت کانفرنس نے آپریشن جامع مسجد کے 29 سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ اس بدنام زمانہ آپریشن کا واحد مقصد اس وقت کی قیادت خصوصا ًجموںوکشمیر عوامی مجلس عمل کے بانی سربراہ شہید ملت میرواعظ مولانا محمد فاروق کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ کشمیریوں کی حق و انصاف سے عبارت تحریک کی ترجمانی کرنے سے باز رہیں ۔
بیان میںکہا گیاکہ آپریشن جامع مسجد کے بعد کشمیر کے دیگر مذہبی اور مقدس مقامات جن میں آثار شریف حضرت بل ، چرار شریف، خانقاہ فیض پناہ ترال،آستانہ عالیہ خانیار وغیرہ شامل ہیں کی بے حرمتی کا مقصد مسلمانوں کی وحدت اور اجتماعیت کو کمزور کرنا تھا لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ جامع مسجد کو بار بار بند کرنے سے اور ان تمام سازشوں کے باوجود جامع مسجد کے منبر و محراب جو صدیوں سے کشمیری عوام کی دینی اور سیاسی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا رہاہے کوکسی بھی قیمت پر حق و صداقت کی آواز بلند کرنے سے باز نہیں رکھا جاسکتا اور کشمیری عوام اس قدیم و عظیم روحانی مرکز کے تقدس کو بحال رکھنے کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ تاریخ شاہد ہے کہ قال اللہ وقال رسول ﷺ کا فریضہ ہو یا کشمیری عوام کی سیاسی ، سماجی اور مذہبی حقوق کی ترجمانی ہو ، یہ منبر ومحراب یہاں کے عوام کی ہر سطح پر ترجمانی کا فریضہ ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہیگا اور سرکاری ہتھکنڈے نہ ماضی میں اسے خوفزدہ کرسکے ہیں اور نہ آئندہ اسے اپنے فرائض کی ادائیگی سے روک سکتے ہیں۔

Comments are closed.