سرینگر:: ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے برصغیر کے دیرپا امن اور ترقی کیلئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معنی خیز اور مسلسل بات چیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپسی رنجشوں اور تنازعات سے مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہوجاتے ہیں جبکہ دوستانہ ماحول کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
اپنی رہائش گاہ پر متعدد عوامی وفود اور پارٹی ورکروں و عہدیداروں کے ساتھ موجودہ سیاسی صورتحال اور ہند و پاک رشتوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام سے جموں وکشمیر کے عوام کو کافی اُمیدیں وابستہ ہیں اور نو منتخب وزیر اعظم نے صحیح سمت میں جاکر ہندوستان کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے جو ایک خوش آئندہ قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ ہندوستان بھی مثبت سوچ لیکر وزیراعظم پاکستان کی پیشکش کا جواب دینگے اور بنا دیر کئے جامع مذاکراتی عمل شروع کرنے کی پہل کرے گا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوقوں اور گولیوں سے آج تک کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی تمام پیچیدہ مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں نامساعد حالات، سرحدی کشیدگی اور ہند و پاک کے درمیان دشمنی کے باعث بہت سارا خون بہا ہے۔ کشیدہ حالات اورغیر یقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ریاست کی مجموعی ترقی کو بھی کافی دچھکا لگا۔
انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کی وجہ سے نہ صرف ریاست کی اقتصادیات کو بری طرح نقصان پہنچا بلکہ تعلیم، روزگار اور سیاحتی شعبے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ ہی امن کی خواہاں رہی ہے اور اس جماعت نے ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مذاکرات کی وکالت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست جموںوکشمیر کے عوام کے وسیع مفادات کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان سے زمینی حقائق تسلیم کرکے ایک دوسرے کے قریب آکر تمام حل طلب معاملات پر حل ڈھونڈنا چاہئے۔انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ خود کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خود کو وقف کر دیں اور اپنی جماعت کی مضبوطی کیلئے دن رات کام کریں۔
کلدیپ نائر کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کا خراج عقیدت
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے معروف صحافی، کالم نگار، مصنف، سیاست دان، فعالیت پسند برائے انسانی حقوق کلدیپ نائر کے سرگباش ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آنجہانی کے جملہ پسماندگان کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اُن کی آتما کی شانتی کیلئے دعا کی۔ آنجہانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دونوں لیڈران نے کہا کہ نائب صاحب کی وفات سے صحافتی حلقوں میں ایک ایسا خلاءپیدا ہوگیا ہے جس کی تلافی کرنا ناممکن ہے۔ ایک کہنہ مشق صحافی کے علاوہ کلدیب نائر صاحب کی ایک شناخت یہ بھی تھی کہ وہ انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن و علمبردار تھے اور اس حیثیت میں وہ کبھی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ جموں وکشمیر کے حالات اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں آنجہانی اپنے کالموں اور کتابوں میں تحریر کرتے رہے اور مختلف سٹیجوں اور پرواگروموں میں بھی اس دیرینہ مسئلے کے دائمی اور پُرامن حل کا ذکر کئے بنا نہیں رہتے تھے۔
نیشنل کانفرنس کا اظہارِ تعزیت
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور کارگذار صدر عمر عبداللہ نے پارٹی کے دیرینہ رکن محمد یوسف سراج ساکن مجاہد منزل سرینگر کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے جملہ سوگوران کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پسماندگان کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ،سینئر لیڈر و ایم ایل اے عیدگاہ حاجی مبارک گل ، سینئر نائب صدر محمد سعید آخون اور ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد نے بھی اس سانحہ ارتحال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لیڈران نے کہا کہ مرحوم نے آخری دم تک پارٹی اور قیادت کیساتھ وفا کی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔
Comments are closed.