ہڑتال شیڈول میں تبدیلی ،30اور31اگست کو ہڑتال کی جائے:مشترکہ مزاحمتی قیادت
سرینگر: مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میںجموںوکشمیر کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو بگاڑنے ،ریاست کی موروثی State subject Law میں کسی بھی قسم ترمیم یا تنسیخ اور اس ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے منصوبوں کیخلاف یہاں کے عوام کی احتجاجی تحریک کو برمحل اور کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد آزادی کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیری عوام کے مفادات اور ان کے بنیادی حقوق کیخلاف ہو رہے منصوبوں اور سازشوں کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔
قائدین نے کہا کہ دفعہ ۵۳ اے کے حوالے سے بھارت کی سپریم کورٹ میں دائر رٹ پر جو سماعت 27 اگست کو ہونے والی تھی وہ اب چونکہ 31 اگست کو ہونے والی ہے لہٰذا اس ضمن میں قیادت کی جانب سے جو احتجاجی ہڑتال کی کال 26 اور 27 اگست کے حوالے دی گئی تھی وہ ہڑتال اب 30 اور31 اگست ہوگی اور ان تاریخو ںپر پورے جموںوکشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال رہیگی تاہم اس دوران زندگی کے مختلف طبقوں کے حوالے سے مرتب کیا گیا احتجاجی پروگرام جاری رہیگا۔
قائدین نے واضح کیا کہ state subject law کے ساتھ کسی بھی قسم چھیڑ چھاڑ یا عدالتی سطحوں پر یا چور دروازوں سے اس قانون کو ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش کشمیری عوام کو کسی بھی صورت میں ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی اور نہ کشمیری عوام اپنے مفادات کیخلاف ہو رہی سازشوں کو کامیاب ہونے دیں گے ۔
اس دوران قائدین نے وایلو کوکرناگ میں بھارتی فوج کے ساتھ ایک عسکری معرکے کے دوران شہید ہوئے عسکریت پسند کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بلند نصب العین کی دی جارہی قربانیاں ہرگزرتے دن کے ساتھ رواں تحریک آزادی کو مستحکم بنا رہی ہے اور ان شہیدوں کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جائیگا۔
قائدین نے فوج کی بلا جواز فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد کو زخمی کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے عوام کیخلاف طاقت اور تشدد کا استعمال ہر لحاظ سے غیر جمہوری اور غیر انسانی عمل ہے ۔
قائدین نے کولگام ، شوپیاں، ترال اور دیگر علاقوں میں سرکاری فورسز اور پولیس کی جانب سے ان علاقوں میں لوگوں کیخلاف رچی جارہی جارحانہ کارروائیوں، مار دھاڑ، گھروں میں گھس کر مکینوں کو زدوکوب کرنے، اسباب خانہ کی توڑ پھوڑ کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری فورسز بے لگام ہوکر نہتے کشمیریوں کو اپنے جبر و قہر کا نشانہ بنا رہی ہے جو ہر لحاظ سے قابل تشویش ہے۔
Comments are closed.