‘ایک ملک ایک الیکشن‘ کا کوئی چانس نہیں’:الیکشن کمیشن آف انڈیا

لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے کی ساری اٹکلوں کو ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن نے خارج کر دیا۔ اس تعلق سے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’کوئی چانس نہیں‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کی جانب سے کی جا رہی ’ایک ملک ایک الیکشن‘ کی کوششوں پر دو ٹوک جواب دیتے ہوئے پورے مسئلہ پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے۔ اورنگ آباد کی ایک تقریب میں شرکت کرنے آئے چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے ان تمام امکانات کو خارج کر دیا۔ جب اس تعلق سے ان سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’’کوئی چانس نہیں‘‘۔

اس سے قبل 14 اگست کو بھی راوت نے کہا تھا کہ قانون میں بدلاؤ کئے بغیر ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے۔غور طلب ہے کہ حال ہی میں بی جے پی صدر امت شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں کے درمیان ’صحتمند اور کھلی بحث‘ ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس بات کو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ لاء کمیشن نے بھی اس معاملہ پر تمام سیاسی پارٹیوں کی رائے مانگی تھی جس پر مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس تجویز کو آئین کی روح کے منافی قرار دیا تھا۔

اورنگ آباد میں او پی راوت نے بھی ’ایک ملک ایک الیکشن‘ کے لئے قانون بنانے کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے کم از کم ایک سال لگےگا۔ انہوں نے بتایا کہ عام انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن انتخابات سے 14 ماہ قبل تیاری شروع کر دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے پاس صرف 400 ملازمین ہیں جبکہ ہمیں انتخابات کے دوران 11.1 کروڑ ملازمین تعینات کرنے ہوتے ہیں‘‘۔حال کے دنوں میں ایسی خبریں زوروں پر تھیں کہ اس سال کے آخر میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان اور میزورم میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو ٹالا جا سکتا ہے اور انہیں اگلے سال مئی۔جون 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ کرایا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.