کولگام میں فورسز کی مبینہ زیادتیاں

کولگام: بان کولگام میں فورسز نے تلاشی کارروائیوں کے دوران لوگوں پر قہر برپا کر دیا ،رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ ،50کے قریب گاڑیوں کو نقصان پہنچا یا ،بلا لحاظ عمر و جنس لوگوں کو زد کوب کیا ،فورسز کی زیادتیوں کے خلاف لوگوںنے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے ، ادھر پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر نے فورسز کی زیادتیوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ریاست کے گورنر سے مطالبہ کیا کہ جن رہائشی مکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا یا گیا انہیں معاوضہ فراہم کیا جائے ۔

بان کولگام کے علاقے میں فورسز زیادتیوں کے خلاف مرد و زن بوڑھے ارو بچے اپنے گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے ۔ احتجاج کرنے والے لوگوں کے مطابق 17اگست کو فورسز کی جمعیت نے علاقے میں گھس کر رہائش مکانوں کو تہ نہس ،گاڑیوں کی توڑ پھوڑ ،گھروں میں گھس کر بلا جنس و لحاظ مکینوں کو زد کو ب کیا اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ احتجاج کرنے والوں کے مطابق فورسز اہلکاروں نے لاکھوں روپے مالیت کے جائیداد کو تباہ و برباد کر دیا ،کئی دکانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،

ادھر پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر عبدالغفار صوفی نے بان کولگام کے علاقے میں فورسز اہلکاروں کی کارروائی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج کا کام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ گھروں میں گھس کر بلا لحاظ و عمر و جنس لوگوں کو زد کوب کرنا ،گاڑیوں کو نقصان پہنچا نا اور گھریلوں جائیداد کو تہس نہس کرنا ۔سینئر لیڈر نے ریاست کے گورنر این این ووہرا سے مطالبہ کہا کہ جن رہائشی مکانوں ،گاڑیوں ،دکانوں کوفورسز اہلکاروںنے نقصان پہنچا یا ہے انہیں معاوضہ فراہم کیا جائے اور زد کوب کرنے والے اہلکاروں کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔(اے پی آئی)

Comments are closed.