سر ینگر:کشمیری نوجوانوں کے عسکریت میں شامل ہونے کے معاملے کو تشویشناک اور فکر مندی قرار دیتے ہوئے راءکے سابق سربرا ہ نے کہا کہ بات چیت سے ہی ریاست جموں و کشمیر میں امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے ،آنجہانی وزیر اعظم کو امن کا داعی قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پاکستان کی فوج سیاسی قیادت اور عا م لوگ بھی امن چاہتے ہیں ،پاکستان کے نو منتخب حکومت کے ساتھ بھارت کو بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ ریاست میں امن قائم کرنے کیلئے راہ ہموار ہو سکے ۔
نئی دہلی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق رآءکے سابق ڈائریکٹر اے ایس دلت نے کہا کہ بات چیت سے ہی کشمیر میں امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ امن کو قائم کرنے کیلئے بھارت کی موجود ہ حکومت کو سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھا نے ہونگے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے کئی فوجی افسروں ، سیاستدانوں اور عا م لوگوں سے جب میری بات ہوئی تو میں نے یہ محسوس کیا کہ پاکستانی عوام بھارت سے بہتر تعلقات کے خواہشمند ہیں ۔ کوئی خطے میں کشیدگی اور تناو¿ کے حق میں نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کیا جا سکتا ہے اور حل بات چیت سے ممکن ہے ۔
سابق رآءکے ڈائریکٹر نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کا عسکریت کی طرف مائل ہونا تشویشناک اور فکر مندی کی نشانی ہے اور فوری طور پر مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو کھیل قابو سے باہر بھی ہو سکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نوجوانوں کا تشدد کی طرف مائل ہونا کسی ملک اور ریاست کیلئے نیک شگون نہیں ہے اور جس طرح کے ریاست جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہو رہے ہیں وہ ملک کی سیاسی قیادت کیلئے فکر مندی کی بات ہونی چاہیے اور اگر اس صورتحال پر قابو پانا ہے تو بات چیت شروع ہونی چاہیے ۔
پاکستان کے نومنتخب حکومت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی ذکر کرتے ہوئے رآءکے ڈائریکٹر نے کہاکہ عمران خان ایک نئے حوصلے اور ولولے کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں اور بھارت کی مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی طرف ایک دفعہ پھر دوستی کا ہاتھ بڑھائے تاکہ ریاست جموں و کشمیر میں امن کو قائم کیا جائے ۔
Comments are closed.