دہلی پبلک اسکول عمارت میں جھڑپ اختتام پذیر ، دو جنگجوؤں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا کیپٹن سمیت پانچ اہلکار زخمی

تلاشی آپریشن جاری ہے ، عسکریت پسند اب اسکولوں اور کالجوں کو نشانہ بنا رہے ہیں /پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید

سرینگر؍25؍جون؍ ؍؍ دہلی پبلک اسکول میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان خونریز جھڑپ لشکر طیبہ کے دو عسکریت پسندوں کو مارگرانے کا دعویٰ ۔معلوم ہوا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والی جھڑپ میں فوجی کیپٹن سمیت 5اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر بادامی باغ اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس سربراہ کے مطابق آپریشن اختتام پذیر ہوا ہے ، تاہم نعشیں تلاش کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ منصوبہ بند سازش کے تحت جنگجوں اب اسکولوں اور کالجوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کے مستقبل کو مخدوش بنایا جا سکے۔ معلوم ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں کو مار گرانے کیلئے ڈرون کیمروں کی بھی مددلی گئی ۔جے کے این ایس کے مطابق سنیچر کے روز شام پانچ بجے کے قریب پانتھ چوک میں عسکریت پسندوں نے سی آر پی ایف گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سی آر پی ایف آفیسر موقعے پر ہی ہلاک ہوا جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ نمائندے کے مطابق حملے کے بعد عسکریت پسند دہلی پبلک اسکول میں پھنس کر رہ گئے اس دوران پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت نے عمارت کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ 24اور 25جون کی درمیانی رات کو پولیس وفورسز اور جنگجوؤں کا دہلی پبلک اسکول کی عمارت میں آمنا سامنا ہوا جس دوران پورا علاقہ گولیوں کی گن گرج سے گونج اٹھا۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں کو مارگرانے کیلئے پیرا کمانڈوز کو طلب کیا گیا جنہوں نے نماز فجر کے بعد اسکول عمارت پر مارٹر گولوں کی بارش شروع کی جس کے نتیجے میں عمارت سے آگ کے شعلے بلند ہوئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اس دوران فوجی کیپٹن سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر بادامی باغ اسپتال منتقل کیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق اتوار دس بجے کے قریب گولیوں کا تبادلہ رک گیا اس دوران فوج نے مزید جنگجوؤں کی موجودگی ہونے کے پیش نظر دہلی پبلک اسکول کو پوری طرح سے تحویل میں لے کر تلاشی آپریشن میں تیزی لائی ۔ فوج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمارت کے ملبے میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو عسکریت پسندوں کی نعشیں موجود ہے تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک تلاشی آپریشن جاری تھا۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے پانتھ چوک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایاکہ دہلی پبلک اسکول میں پچھلے پندرہ گھنٹوں سے جاری جھڑپ اختتام پذیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمارت میں لشکر طیبہ کے دو عسکریت پسند موجود تھے جنہیں مارگرایا گیا ہے تاہم تلاشی آپریشن اب بھی جاری ہے کیونکہ دہلی پبلک اسکول میں پانچ سو کے قریب کمرے موجود ہے اور پوری طرح سے تلاشی لینے کے بعد ہی آپریشن کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مصدقہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ دہلی پبلک اسکول عمارت میں دو عسکریت پسند موجود تھے جنہیں جھڑپ کے دوران مار گرایاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ منصوبہ بند سازش کے تحت عسکریت پسند اب اسکولوں اور کالجوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ وادی کے نوجوانوں کے مستقبل کو مخدوش بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ کسی کو بھی وادی میں امن و امان کو درہم برہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جوکوئی بھی اس ضمن میں ملوث قرار پائے گا اُس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ پولیس چیف کے مطابق جھڑپ کے دوران تین فوجی اہلکار معمولی طورپر زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر اسپتال منتقل کیا گیا۔ دریں اثنا انتظامیہ نے رام منشی باغ سے لے کر پانتھ چوک تک غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا تاکہ جان ومال کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ ڈپٹی کمشنر سرینگر نے گزشتہ رات ہی رام منشی باغ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ رکھنے کے احکامات صادر کئے ۔ ادھر افواہ بازی سے بچنے کیلئے انتظامیہ نے پوری وادی میں موبائیل انٹرنیٹ سہولیات کو منقطع کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔

Comments are closed.