جموں،3اگست (یو این آئی) نیشنل کانفرنس صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر دفعہ35-Aکے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان جموں کے ڈوگرو ¿ں کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اورلداخ خطہ کے بجائے سب سے زیادہ نقصان جموں والوں کو ہوگا لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ یہی سے اس دفعہ کو ختم کرنے کی زیادہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ شیر کشمیر بھون جموں میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں این سی صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا نے کہاکہ سال 1927میں مہاراجہ ہری سنگھ نے جو سٹیٹ سبجیکٹ قوانین بنائے تھے وہ جموں خطہ کی خصوصی شناخت اور اقتصادیات کو محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہیں کیونکہ پڑوسی ریاستوں کے شہریوں کے یہاں آنے سے مقامی لوگوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ انہیں قوانین کا تحفظ دفعہ35-Aکے تحت ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے مستقل باشندہ سند کے لئے قانون اور شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے زرعی اصلاحات قانون ایک انقلابی تھے جوکہ نہ صرف ریاست کی خصوصی شناخت کے ضامن ہیں بلکہ جموں ،کشمیر اور لداخ کی سیاسی واقتصادی خود مختیاری کے لئے اہم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈوگرو ¿ں کی ہیری ٹیج اور کلچر کو بچانے کے لئے دفعہ35-Aکا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈوگرو ¿ں کی شناخت کو ختم کرنے کے دشمنوں کا نیشنل کانفرنس ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.