ہوٹلوں اور شا پنگ کمپلیسوں کی تلاشی

ہوٹلوں اور شا پنگ کمپلیسوں کی تلاشی

لالچوک میں افراتفری اورسنسنی کا ماحول ۔ بٹہ مالو میں بھی کیسو

سرینگر 26جولائی: شہر کے لالچوک میں نوے کی دہائی کے طرز پر راکٹ لانچروں اور دیگر جدید ہتھیاروں سے لیس فورسز اور ٹاسک پولیس اہلکاروں نے محاصرہ کر کے ہوٹلوں اور تجارتی کمپلیکسوں کی تلاشی لی۔ فورسز کی بھاری کمک دیکھ کر لالچوک اور اسکے گرد ونواح میں سرا سیمگی پھیل گئی اور ایسا گماں ہوا کہ شاید ابھی جھڑپ شروع ہونے والی ہے۔ ایس ایس پی سرینگر امتیازسما ئیل پرے نے لاچوک میں فورسز کا سرچ آ پریشن معمول کی تلاشی کاروئیوں کا حصہ تھا۔ سی این ایس کے مطابق سرینگر کے لالچوک میں جمعہ کو تین بجے کے قریب اس وقت مصروف اور معروف ترین بازار میں رفتار تھم گئی جب اچانک جدید ہتھیاروں سے لیس سی آر پی ایف اور پولیس آپریشن گروپ کے اہلکار نمودار ہوئے جبکہ فوجی اہلکار بھی تلاشی کاروائیوں میں موجود تھے۔راکٹ لانچروں سے لیس فورسز اہلکاروں کی طرف سے لالچوک میں ڈھیرہ ڈالنے کی وجہ سے ہر ایک آنکھ ان کی طرف متوجہ ہوگئی۔پولیس ٹاسک فورس وفورسز اہلکاروں نے گھنٹہ گھر کے نزدیک راہگیروں کی جامہ تلاشی لی جبکہ کئی گاڑیوں کی باریک بینی سے چیکنگ کی گئی۔لالچوک میں فورسز اور پولیس کے خصوصی آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں کے بھاری جماؤ کے نتیجے میں لال چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موجود راہگیر اور تاجر حیرت میں پڑگئے۔ میڈیا سے وابستہ افراد ان تمام مناظر کو اپنی کیمراؤں میں قید کرلیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ کورٹ روڑ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھی راہگیروں کی جامہ تلاشی لی گئی،تاہم کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔اس دوران فورسز اور پولیس اہلکاروں نے کورٹ روڑ بند تک مارچ کیا اور کئی ہوٹلوں،عمارتوں اور دیگر جگہوں کی باریک بینی سے تلاشیاں لی۔یہ سلسلہ تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا،جس دوران فورسز اہلکار لالچوک میں راکٹ لانچر ہاتھوں میں اٹھائے بھی دیکھے گئے۔ان تمام مناظر کو دیکھ کر لالچوک اور اسکے گرد ونواح میں سرا سیمگی پھیل گئی۔لاچوک کے دکاندار وں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر فورسز نے کئی عمارتوں پر مورچہ بھی سنبھالا جس کی وجہ سے وہ خوف میں مبتلا ہوگئے۔گھنٹہ گھر کے نزدیک پٹری پر سامان فروخت کرنے والے ایک دکاندار جاوید رسول نے بتایا کہ قریب تین بجے فورسز اور ٹاسک فورس لالچوک میں نمودار ہوئے اور عمارتوں کی تلاشی لینے کی کارروائی شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ ابھی ہم کچھ سمجھ ہی پار ہے تھے کہ راہگیر افراتفری کے ماحول میں محفوظ مقامات کی طرف دورنے لگے،اور ایسا لگا کی شاید لالچوک میں کوئی معرکہ آرائی شروع ہونے والی ہو۔ پلیڈیم کے سامنے ایک دکان پر کام کر رہے سیلز مین نے کہا کہ اچانک کیسپر گاڑی کے پہنچنے سے انہیں ایسے خدشات ہوئے کہ شاید ابھی جھڑپ شروع ہونے والی ہے۔اس موقعہ پر سڑک پر ٹریفک کی نقل و حرکت بھی بند ہوئی جبکہ ہر طرف تناؤ اور کشیدگی کا ماحول نظر آنے لگا۔کئی دکانداروں نے سی این ایس کو بتایا کہ ہم سامان کو اکھٹا کر کے دکانوں کو مقفل کرنے والے ہی تھے کہ اچانک صورتحال معمول پر آگئی،اور قریب ایک گھنٹے کے بعد فورسز اور پولیس نے آپریشن کو ختم کیا۔لاچوک میں محاصر ہ ختم ہونے کے بعد بٹہ مالو میں بھی سرچ آ پریشن عمل میں لایا گیا۔ ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسمائیل نے لاچوک میں فورسز کا سرچ آ پریشن معمول کی تلاشی کاروئیوں کا حصہ تھا ۔ انہوں نے ان اطلاعات کو مستر د کردیا کہ یہاں جنگجو ؤں کی موجود گی کے بارے میں کوئی اطلاع تھی بلکہ یہ ایک سیکورٹی ڈرلر تھی ۔

Comments are closed.