اکنامک کاریڈور کے بعد گلگت بلتستان میں چین ہائیڈل پروجیکٹ کا کام شروع کر رہا ہے
بھارت نے چین کی کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا
سرینگر /20 جون/ گلگت بلتستان میں چین نے ہائیڈل پروجیکٹ تعمیر کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اور پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین گلگت بلتستان میں ہائیڈ ل پروجیکٹ کے تعمیر کا کام جلد ہاتھ میں لینے والا ہے ۔ ادھر بھارت نے چین کی کارروائی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے ہیں اور چین کی مداخلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔ اے پی آئی کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت نے چین کو گلگت بلتستان میں ہائیڈل پروجیکٹ تعمیر کرنے کے کام کو منظوری دی ہے اور چین آنے والے دنوں کے دوران ہائیڈل پروجیکٹ کا کام ہاتھ میں لے رہا ہے ۔گلگت بلتستان میں تعمیر کئے جانے والے اس ہائیڈل پروجیکٹ سے 1100میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہیں اور چین کی جانب سے ہائیڈل پروجیکٹ کا کام 4برسوں میں مکمل کرنے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔پاکستانی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اس بات کی تصدیق کی کہ گلگت بلتستان میں چین کی مدد سے ہائیڈل پروجیکٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ ملک میں جو بجلی کا بحران پایا جا رہا ہے اسے نجات حاصل کی جا سکے ۔اگر چہ چین نے ہائیڈل پروجیکٹ کی تعمیر کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم بھارت نے چین کی کارروائی پر شدید ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کی مداخلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ چین کو گلگت بلتستان میں ہائیڈل پروجیکٹ کے تعمیر کا کام ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے اور اگر چین نے ایسی کوئی کوشش کی تو اس کے مثبت نتائج برآمدنہیں ہو سکتے ہیں ۔ دفتر خارجہ کے سینئر افسر نے کہا کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کا قیام عمل میں لانے کے دوران بھی گلگت بلتستان کی اراضی کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور گلگت بلتستان کے وسائل کو نیست و نابود کرنے کے ساتھ ساتھ اس خطہ کو ماحولیات کی آلودگی کی طرف دھکیلنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیاہے ۔ بھار ت نے چین کو خبر دار کرتے ہوئے کہاکہ وہ گلگت بلتستان میں ہائیڈل پروجیکٹ کی تعمیر کا کام کسی بھی صورت میں ہاتھ میں نہ لیں ۔
Comments are closed.