پلوامہ، بانڈی پوری ،شوپیان ،کولگام اور گاندربل میںعام لوگوں پر آرمی ،ایس او جی اور پولیس حملوںکی مذمت// محمد یاسین ملک
20جون //کشمیر کے بیشمار مقامات پر بھارتی آرمی،ایس او جی اور پولیس کی غنڈہ گردیاں عام کشمیریوں کے خلاف جاری بھارتی دہشت گردی کا نمونہ ہیں۔نہتے عوام ک پر حملوں اور ان کی بلاتخصیص مار پیٹ،ان کے گھروں اور پراپرٹی کی توڑ پھوڑ اور ایسے ہی دوسرے مذموم اقدامات بھارتی فوج کی بزدلی کا شاخسانہ ہیں۔ ان باتوں کا ا ظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جناب محمد یاسین ملک نے آج وادی کے کئی علاقوں میں گزشتہ روز عوام پر کئے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا۔دربہ گام پلوامہ میں فورسز کی بے ہنگم فائرنگ،اشٹنگو بانڈی پورہ،بٹہ پورہ یاری پورہ کولگام،سعد پورہ پائین شوپیان میں فوج اور ایس او جی کے شبانہ حملوں اور غنڈہ گردی نیز گاندربل میں کئی درجن جوانوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ یہ حملے بھارتی حکمرانوں اور انکے ریاستی کٹھ پتلیوں جن کی سربراہی پی ڈی پی کررہی ہے کی واضح اور صریح بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ لوگ جبر و تشدد سے کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور کشمیریوں کی آواز حق کو دبا نہیں پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دربہ گام میں بلاجواز فارئنگ جس کے نتیجے میں ایک معصوم جوان الطاف احمد زرگر زخمی ہوگئے ہیں نیز اشٹنگو بانڈی پورہ،بٹہ پورہ یاری پورہ اور سعد پورہ شوپیان میں عوام پر حملوں جس دوران خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بلاتخصیص مار پیٹ جس کے نتیجے میں سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے ہیں کے علاوہ لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو جلاڈالنا نیزگاندربل میں کئی درجن جوانوں کی گرفتاری سبھی بھارتی جارحیت اور سرکاری سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا نمونہ ہیں جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بھارتی دہشت گردی کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرکے تحریک آزادی سے دور کردینا ہے اور آواز خلق کو دباکر یہاں قبرستان کا امن قائم کرنا ہے۔ بھارتی فوج کے عوام پر ان حملوں جس کے نتیجے میں بچوں،بوڑھوں اور عورتوں سمیت کئی درجن لوگ زخمی ہوئے ہیں اور مکانات گاڑیوں اور دوسرے سازو سامان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے کی سخت الفاط میں مذمت کرتے ہوئے لبرشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ ماہ صیام کے مقدس ایام میں رات کی تاریکی کے اندران حملوں نے ایک بارپھر واضح کردیا ہے کہ جموں کشمیر میں اگر کوئی دہشت گرد ہے تو وہ قابض فوج اور فورسز ہی ہیں جن کا کام لوگوں کو مار ڈالنا، اُن پر حملے کرنا، انہیں زخمی کرنا،اُن کی بینائی چھین لینا اوراُن کے سازو سامان کو تہس نہس کرنا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ وردی پوش دہشت گرد نہ عورتوں کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی بچوں یا بزرگوں کا انہیں کچھ پاس و لحاظ ہے کیو نکہ ان لوگوں کے لئے سارے کشمیری دشمن ہیں ۔ جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ نام نہاد پی ڈی پی حکمرانوں کی اس مار پیٹ اور عوام پر حملوں پر مجرمانہ خاموشی اس بات کا علان ہے کہ یہ لوگ اس فوجی و پولیسی دہشت گرد کے حمایتی ہیں اور یہ حملے دراصل انہی کی ایماء پر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام کے خلاف جاری اس فوجی دہشت گردی کے ذریعے دراصل قابض حکام اور افواج آگ سے کھیل رہے ہیں اور یہ کہ کشمیری اس باوردی دہشت گردی کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کریں گے اور اگر نام نہاد حکمرانوں نے اپنے ان دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو کشمیری اس کے خلاف بھر پور اور منظم احتجاجی پروگرام چلانے پر مجبور ہو جائیں گے اور حالات کے بگڑجانے کی ساری ذمہ داری نام نہاد حکمرانوں کے سر عائد ہو گی۔یاسین ملک نے کہا کہ بزدل فوجیوں اور اُن کے سر پرستوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کشمیری اُن کی اس دہشت گردی سے کسی بھی صورت میں مر عوب نہیں ہوں گے اور اس کا بھر پور مقابلہ کرتے رہیں گے۔ان شاء اللہ 20جون //کشمیر کے بیشمار مقامات پر بھارتی آرمی،ایس او جی اور پولیس کی غنڈہ گردیاں عام کشمیریوں کے خلاف جاری بھارتی دہشت گردی کا نمونہ ہیں۔نہتے عوام ک پر حملوں اور ان کی بلاتخصیص مار پیٹ،ان کے گھروں اور پراپرٹی کی توڑ پھوڑ اور ایسے ہی دوسرے مذموم اقدامات بھارتی فوج کی بزدلی کا شاخسانہ ہیں۔ ان باتوں کا ا ظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جناب محمد یاسین ملک نے آج وادی کے کئی علاقوں میں گزشتہ روز عوام پر کئے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا۔دربہ گام پلوامہ میں فورسز کی بے ہنگم فائرنگ،اشٹنگو بانڈی پورہ،بٹہ پورہ یاری پورہ کولگام،سعد پورہ پائین شوپیان میں فوج اور ایس او جی کے شبانہ حملوں اور غنڈہ گردی نیز گاندربل میں کئی درجن جوانوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ یہ حملے بھارتی حکمرانوں اور انکے ریاستی کٹھ پتلیوں جن کی سربراہی پی ڈی پی کررہی ہے کی واضح اور صریح بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ لوگ جبر و تشدد سے کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور کشمیریوں کی آواز حق کو دبا نہیں پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دربہ گام میں بلاجواز فارئنگ جس کے نتیجے میں ایک معصوم جوان الطاف احمد زرگر زخمی ہوگئے ہیں نیز اشٹنگو بانڈی پورہ،بٹہ پورہ یاری پورہ اور سعد پورہ شوپیان میں عوام پر حملوں جس دوران خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بلاتخصیص مار پیٹ جس کے نتیجے میں سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے ہیں کے علاوہ لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو جلاڈالنا نیزگاندربل میں کئی درجن جوانوں کی گرفتاری سبھی بھارتی جارحیت اور سرکاری سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا نمونہ ہیں جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بھارتی دہشت گردی کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرکے تحریک آزادی سے دور کردینا ہے اور آواز خلق کو دباکر یہاں قبرستان کا امن قائم کرنا ہے۔ بھارتی فوج کے عوام پر ان حملوں جس کے نتیجے میں بچوں،بوڑھوں اور عورتوں سمیت کئی درجن لوگ زخمی ہوئے ہیں اور مکانات گاڑیوں اور دوسرے سازو سامان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے کی سخت الفاط میں مذمت کرتے ہوئے لبرشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ ماہ صیام کے مقدس ایام میں رات کی تاریکی کے اندران حملوں نے ایک بارپھر واضح کردیا ہے کہ جموں کشمیر میں اگر کوئی دہشت گرد ہے تو وہ قابض فوج اور فورسز ہی ہیں جن کا کام لوگوں کو مار ڈالنا، اُن پر حملے کرنا، انہیں زخمی کرنا،اُن کی بینائی چھین لینا اوراُن کے سازو سامان کو تہس نہس کرنا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ وردی پوش دہشت گرد نہ عورتوں کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی بچوں یا بزرگوں کا انہیں کچھ پاس و لحاظ ہے کیو نکہ ان لوگوں کے لئے سارے کشمیری دشمن ہیں ۔ جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ نام نہاد پی ڈی پی حکمرانوں کی اس مار پیٹ اور عوام پر حملوں پر مجرمانہ خاموشی اس بات کا علان ہے کہ یہ لوگ اس فوجی و پولیسی دہشت گرد کے حمایتی ہیں اور یہ حملے دراصل انہی کی ایماء پر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام کے خلاف جاری اس فوجی دہشت گردی کے ذریعے دراصل قابض حکام اور افواج آگ سے کھیل رہے ہیں اور یہ کہ کشمیری اس باوردی دہشت گردی کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کریں گے اور اگر نام نہاد حکمرانوں نے اپنے ان دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو کشمیری اس کے خلاف بھر پور اور منظم احتجاجی پروگرام چلانے پر مجبور ہو جائیں گے اور حالات کے بگڑجانے کی ساری ذمہ داری نام نہاد حکمرانوں کے سر عائد ہو گی۔یاسین ملک نے کہا کہ بزدل فوجیوں اور اُن کے سر پرستوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کشمیری اُن کی اس دہشت گردی سے کسی بھی صورت میں مر عوب نہیں ہوں گے اور اس کا بھر پور مقابلہ کرتے رہیں گے۔ان شاء اللہ
Comments are closed.