’’نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نئی دہلی ،کام کے اعتبار سے ناکاراہ مانا جاتا ہے ہیومن شیلڈ کے طور پر شہری کو استعمال کرنے کے بارے میں شکایت پر کمیشن نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی /پروفیسر سیف الدین سوز

سرینگر17؍؍جون ؍ ؍؍ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر نے کہا ہے کہ’’مجھے معلوم نہیں ہے کہ کون لوگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے سامنے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے سلسلے میں گئے تھے ۔مگر اس خبر سے مجھے یاد آیا کہ میں نیشنل کمیشن برائے ہیومن رائٹس ، نئی دہلی کے بارے میں کچھ کہوں۔ جے کے این ایس کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اپنے کام کے اعتبار سے (Defunct ) یعنی گیا گزرا مانا جاتا ہے ۔ کئی لوگ سو چتے ہیں کہ اس ادارے کو قائم رکھنے کی کوئی وجہ یا ضرورت نہیں ہے۔ عام طور پر ایسے ادارے ملک اور قوم کیلئے نیک شگون ہوتے ہیں اور ملک اور قوم کو ایسے اداروں کے طفیل عزت اور آبرو حاصل ہوتی ہے۔ مگر اس کمیشن کو اس وقت اسی بات کیلئے جانا جاتا ہے کہ یہ ادارہ کوئی کام نہیں کرتا۔جسٹس کرشنا ایر اور چند دیگر جج صاحبان نے سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد یہ مشورہ دیا تھا کہ جج صاحبان کو ریٹائرمنٹ کے بعد سرکار میں کوئی کام سوپنا نہیں جانا چاہئے کیونکہ ان کو کوئی ذمہ داری سوپنے سے سماج کے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ آج کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اپنے وجود اور کام کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کیا اور انسانی حقوق کی حفاظت کا تو سوال ہی نہیں ہے۔اس موقع پر میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے میری ایک شکایت جس میں بڈگام میں آرمی میجر کے ہاتھوں ایک شہری کو ہیومن شیلڈ کے طور استعمال کیا گیا تھا اور میں نے کمیشن سے اسی وقت شکایت کی تھی مگر ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ ابھی تک کمیشن نے صرف اتنا ہی بتایا ہے کہ میری شکایت کو ڈائیری نمبر 57850/CR/2017. کے تحت درج کیا گیا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اس کمیشن کو ہندوستان میں اپنے فرائض کے تحت کوئی کام سرانجام دینے کیلئے نہیں جانا جاتا ہے۔ ‘‘

Comments are closed.