پولیس نے کشمیر اکنامک الائنس کے سیکریٹریٹ گھیراو کو ناکام بناتے ہوئے شریک چیرمین اور کے ٹی ایم ایف کے سابق صدر سمیت نصف درجن لیڈروں کو گرفتار کیا /کشمیر اکنامک الائنس
سرینگر17؍؍جون ؍؍؍ پولیس نے کشمیر اکنامک الائنس کے سیکریٹریٹ گھیراؤ پر بریک لگاتے ہوئے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار اور کے ٹی ایم ایف کے سابق صدر محمد صادق بقال سمیت نصف درجن لیڈروں کو گرفتار کیا۔جے کے این اسی کے مطابق ریاست میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف اسمبلی گھیراؤ کی کال کے پیش نظر کشمیر اکنامک الائنس سے وابستہ اکائیوں کے سربرہاں سرینگر کی پریس کالونی میں جمع ہوئے،اور ہاتھوں میں کتبے و بینئر لیکر احتجاج کرنے لگے۔اس موقعہ پر جب کشمیر اکنامک الائنس کے لیڈروں نے سیکری ٹریٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو پریس کالونی میں پہلی سے موجود پولیس نے انکی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے واپس دھکیلنے کی کوشش کی،تاہم الائنس کے لیڈروں نے مزاحمت جاری رکھنی اور پیش قدمی کرنے کی کوشش کی،جس کے نتیجے میں طرفین میں مخاصمت ہوئی اور پولیس نے کشمیر اکنامک لائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار،کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے سابق صدر محمد صادق بقال، کانٹریکٹر کارڈی نیشن کمیٹی کے تصدق حسین لاوئے ،غلام نبی پانڈواور ٹریڈ لیڈر حاجی نثار احمد کو گرفتار کر کے کوٹھی باغ تھانہ میں بند کیا گیا۔ گرفتاری سے قبل میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یوسف چاپری نے بتایا کہ ایک منصوبے کے تحت مخلوط سرکار آر ایس ایس کی پشت پناہی سے کشمیر میں’’جی ایس ٹی‘‘ کو لوگو کیا جا رہا ہے تاکہ ریاستی عام بالخصوص وادی کے لوگوں کو دہلی کے سامنے کشکول اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ہیت میں جی ایس ٹی کو لاگو کرنا زہر ناک ثابت ہو سکتا ہے،تاہم ریاستی مخلوط سرکار نے اب تک وہ خد شات دور کرنے میں بھی ناکام ہوگئی جو تاجروں اور کشمیری عوام نے اس سلسلے میں پیش کئے۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ کہ ریاستی وزیر خزانہ نے ما قبل بجٹ میٹنگ کے دوران تاجروں سے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس مرکزی قانون کو جموں کشمیر میں لاگو نہیں کیا جائے گا،تاہم دیگر واعدوں کی طرح ہی محبوبہ مفتی کی سربراہی والی حکومت نے اس واعدے کا بھی ایفاء نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اصل میں پی ڈی پی،زعفرانی برگیڈ اور بھاجپا کے خاکوں میں رنگ بھر رہی ہے۔اس موقعہ پر حاجی محمد صادق بقال نے تاجروں اور صنعت کاروں کے علاوہ عام لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو سر سری نہ لیں،بلکہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کریں،جس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو زخ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہے ،جس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو زخ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔
Comments are closed.