شہری ہلاکتوں کے خلاف مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث ہو کا عالم رہا جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر پُر تشدد جھڑپیں۔ شہر خاص کے سات پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ

سرینگر17؍؍جون ؍؍؍ شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث پوری وادی میں ہوکا عالم رہا ، کاروباری ادارے ٹھپ جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ شہر خاص میں امکانی احتجاجی مظاہروں کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے 7پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا تھا ۔ شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیر کے حساس علاقوں میں بھی بندشیں عائد رہی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق معمولی پتھراو کے واقعات کو چھوڑ کر پوری وادی میں حالات معمول پر رہے۔ جے کے این ایس کے مطابق آرونی کولگام اور رنگریٹھ سرینگر میں فورسز کے ہاتھوں تین عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث پوری وادی میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں اس دوران شمال و جنوبی میں کئی مقامات پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے سات پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ نوہٹہ ، خانیار ، رعناواری ، مہاراج گنج ، صفا کدل اور کرالہ کھڈ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ رہا ۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص کے حساس علاقوں نوہٹہ ، گوجوارہ اور راجوری کدل میں کسی کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ صبح سویرے پولیس نے لاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے کہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے خلاف ورزی کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ مقامی لوگوں کے مطابق متبرک مہینے کے باوجود بھی پولیس وفورسز نے لوگوں کو گھریلو اشیاء خریدنے کی اجازت نہیں دی ۔ شمالی کشمیر سے نمائندنے اطلاع دی ہے کہ سوپور ، بارہ مولہ ، نائد کھائی ، بانڈی پورہ ، سمبل میں ہڑتال کا خاصہ اثر دیکھنے کو ملا ۔ نمائندے کے مطابق عام شہری کی ہلاکت کے خلاف بانڈی پورہ ، سمبل اور نائد کھائی میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور ملوث فورسز اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ نمائندے کے مطابق پلہالن ، پٹن ، گوشہ بوگ اور سرحدی ضلع کپواڑہ ، ہندواڑہ اور لنگیٹ میں بھی مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کے باعث کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے ۔ وسطی ضلع بڈگام اور گاندربل میں بھی ہڑتال کا اثر دیکھنے کو ملا ۔ نمائندے کے مطابق گاندربل ، کنگن ، سونہ مرگ میں کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل رہی ۔ وسطی ضلع بڈگام سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ چاڈورہ ، چرار شریف ، پکھر پورہ اور بیروہ علاقوں میں ہڑتال کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ نمائندے کے مطابق چاڈورہ میں ہڑتال کا خاصہ اثر دیکھنے کو ملا۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ انتظامیہ نے اگر چہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے پانپور سے ہی امتناعی احکامات نافذ کئے تھے تاہم پانپور میں لوگوں اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ نمائندے کے مطابق اننت ناگ ، پہلگام ، اچھ بل کے ساتھ ساتھ کوکر ناگ میں بھی ہڑتال سے معمولات کی زندگی متاثر ہوئی ۔ جنوبی کشمیر کے حساس اضلاع پلوا مہ کے چاٹہ پورہ علاقے میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے ۔ نمائندے کے مطابق فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائی کا سلسلہ جاری رہا ۔ کولگام کے کھڈونی ، ریڈونی اور کیموہ علاقوں میں شہری ہلاکتوں کے خلاف نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے پہلے سے تعینات پولیس وفورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ پہاڑی ضلع شوپیاں میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ پولیس ذرائع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وادی کے کسی بھی علاقے سے بڑے ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

Comments are closed.