آرونی کولگام میں پتھراو کے دوران پولیس پر فائرنگ کی گئی کراس فائرنگ میں دو عام شہری زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے /پولیس ذرائع
سرینگر17؍؍جون ؍؍؍آرونی کولگام میں جھڑپ اختتام پذیر ، رہائشی مکان کے ملبے سے لشکر کمانڈر سمیت 3مقامی جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران نوجوانوں نے پتھراو کیا اس دوران ہجوم میں بندوق برادروں نے فورسز پر فائرنگ کی اور کراس فائرنگ میں دو مقامی عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ کئی زخمی ہوئے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران انعام یافتہ جنگجو جنید احمد کو بھی مار گرایا گیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق آرونی کولگام میں پولیس وفورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ اختتام پذیر ، رہائشی مکان کے ملبے سے فوج نے تین مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی ۔ پولیس ترجمان نے جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فسٹ آر آر اور 90بٹالین سی آر پی ایف نے آرونی بجبہاڑہ گاؤں کو محاصرے میں لے کر جونہی جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران رہائشی مکان میں محصور لشکر طیبہ کے تین عسکریت پسندوں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا ۔ پولیس ترجمان کے مطابق پولیس وفورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ جاری تھی کہ اس دوران نوجوانوں نے سیکورٹی فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں آپریشن میں رخنہ پڑا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ سنگبازی کے دوران ہجوم میں موجود جنگجوؤں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اس دوران کراس فائرنگ میں کئی افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں دو نوجوانوں کی موت واقع ہوئی ۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جھڑپ کے بعد رہائشی مکان کے ملبے سے لشکر کمانڈر جنید احمد متو ساکنہ کھڈونی کولگام ، نصیر احمد ساکنہ ہف شوپیاں اور عادل میر ساکنہ فرستہ بل پانپور کی نعشیں برآمد کی گئی اور اُن کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ۔ پولیس ترجمان کے مطابق لشکر کمانڈر جنید احمد متو نے بوگنڈ کولگام میں پولیس اہلکار کو ابدی نیند سلا یاتھا جبکہ میر بازار شوٹ آوٹ میں بھی لشکر کمانڈر ملوث تھا۔ پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال بس اسٹینڈ اننت ناگ میں پولیس اہلکار کے قتل میں بھی جنید متو ہی ملوث تھا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق نصیر احمد اور عادل احمد نامی جنگجوؤں نے گزشتہ سال ہی عسکری تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔
Comments are closed.