جموں کشمیر کے پہلے آئی اے ایس ٹاپرنے ہندستان کو ٹویٹ میں لکھا ‘ریپستان’، ہو سکتی ہے کارروائی

جموں وکشمیر حکومت نے 2010 بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔ شاہ فیصل جو اس وقت ا سٹیڈی لیو پر امریکہ میں ہیں، پر الزام ہے کہ انہوںانے اپنے ایک ٹویٹ میں ہندستان کے لئے ’ریپستان ‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔

واضح ہو کہ شاہ فیصل نے رواں برس اپریل کے آخر میں انگریزی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا تھا جس کی سرخی کچھ یوں تھی ’فحش فلموں کے عادی نوجوان نے اپنی 46 سالہ ماں کے ساتھ ریپ کیا۔ گجرات میں گرفتار کرلیا گیا‘۔ کشمیری آئی اے ایس افسر نے بعدازاں اس خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’پدرانہ نظام پلس آبادی پلس ناخواندگی پلس شراب پلس پورن پلس ٹیکنالوجی پلس انارکی از اکول ٹو ریپستان‘۔ اس ٹویٹ اور ری ٹویٹ کے قریب 75 روز بعد ریاستی حکومت نے حکومت ہندوستان کے محکمہ پرنسل اینڈ ٹریننگ کے کہنے پر شاہ فیصل کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کردی ہے۔

سرکاری تحقیقات کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شاہ فیصل اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مطلق ایمانداری اور سالمیت کو بنائے رکھنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فیصل نے منگل کے روز ’سرکاری تحقیقات‘ کا حکم نامہ جو انہیں بذریعہ ای میل موصول ہوا ہے، کو ٹویٹر اور فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ جنوبی ایشیا میں ریپ کلچر کے خلاف طنزیہ ٹویٹ کے لئے مجھے میرے باس کی طرف سے لو لیٹر موصول ہوا ہے۔

منگل کو جب فیصل کے خلاف تادیبی کارروائی کے احکام دئے تو انہوں نے اپنا غصہ ظاہر کیا۔نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی نوکری جانے کا کوئی ڈر نہیں ہے انہوں نےکہا ، "میری نوکری جا سکتی ہے لیکن دنیا امکانات سے بھری ہے”۔ فیصل کہتے ہیں کہ سرکای اہلکار کی ایک تصویر ہے "وہ گمنام ہے اسے بحث نہیں کرنا ہے ،ا س کے چاروں جانب اور جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اسے دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لے لیکن اسے اب بدلنے کی ضرورت ہے”۔

منگل کی صبح فیصل نے ٹویٹ کیا ،اس ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے وہ لو لیٹر بھی شیئر کیا ہے جس میں اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی بات کی گئی ہے۔اس تویٹ مین انہوں نے لکھا، ‘ جنوبی ایشیا میں ریپ کلچر کے خلاف طنزیہ ٹویٹ پر میرے باس کا لو لیٹر۔میں قانون میں تبدیلی کی ضرورت پر زار دینے کیلئے اسے شیئر کر رہا ہوں”۔

لیٹر میں لکھا ہے ‘ میں آپ کے ذریعے دئے گئے کئی ریفرنس پہلی نظر میں اکھل بھارتیہ سیوا قوانین کے التزامات کی خلاف ورزی کرتا ہوں”۔35 سال کے شاہ فیصل ریاستی محکمہ سیاحات میں ایڈیشنل سکریٹری ہیں۔وہ فی الحال ماسٹر ڈگری کیلئے امریکہ میں ہیں۔

Comments are closed.