شاہ فیصل کے خلاف کارروائی پر عمر عبداللہ کا احتجاج
جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے وائس چیئر مین عمر عبداللہ نے آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل کی ٹوئٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ شاہ فیصل کو سول سرویسز سے باہر کرنے کی کوششوں میں ہے’۔
انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اس پیج کی آخر لائن پریشان کن اور ناقابل قبول ہے۔ جہاں وہ فیصل کی ایمانداری اور صداقت پر سوال کرتے ہیں۔ ایسے طنزیہ ٹوئیٹ کیسے غلط کہے جا سکتے ہیں۔ انہیں یہ کیسے بد عنوان بناتا ہے’۔
حال ہی میں بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر حکومت سے پوچھا تھا کہ حکومت نے شاہ فیصل کے خلاف کیا کرروائی کی۔
بتا دیں کہ شاہ فیصل نے کچھ دنوں قبل ریپ کے بڑھتے واقعات پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘پیٹریآرکی+پاپولیشن+الیٹریسی+الکوحل+پورن+ٹیکنالوجی+اینارکی = ریپستان’ ان کے اس ٹوئٹ کے بعد تنازع پیدا ہو گیا تھا۔
مرکزی حکومت نے آئی اے ایس افسر کے اس ٹوئٹ کو آل انڈیا سرویسز (کنڈکٹ رولز)’ 1968 اور آل انڈیا سرویسز (ڈیسپلن اینڈ اپیل) رولز’1969 کے خلاف مانا ہے۔
مرکز کے جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ کے کمشنر کم سیکریٹری نے اس بابت شاہ فیصل کو ایک خط لکھ کر قانونی کارروائی کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ساتھ ہی اس خط میں بتایا گیا ہے کہ محکمے نے اس بابت جموں کشمیر حکومت سے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کی ہے۔ ساتھ ہی اس کارروائی کے بارے میں مرکز کا اطلاع دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ان پر افسر کی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری اور صداقت سے ادا نہیں کرنا کا بھی الزام لگایا ہے۔ خط کے ساتھ آئی اے ایس ٹاپر کے ٹوئٹ کے اسکرین شاٹ کی کاپی لگائی گئی ہے۔
بتا دیں کہ شاہ فیصل فی الوقت بیرون ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
Comments are closed.