قدرتی جگہوں پر انسانوں کی مداخلت اور جنگلوں کا صفایا کرنے سے اس طرح کی صورتحال یقینی

ریاست جموں وکشمیر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں لوگ پہاڑی علاقوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کررہے ہیں/ماہرین

سرینگر؍30؍جون؍ ؍ ملک کے ماہرین نے ریاست جموں وکشمیر کے سیلاب کو اترا کھنڈ میں آئے ’’ہمالین سونامی ‘‘سے جوڑتے ہوئے کہا کہ قدرتی جگہوں پر انسانوں کی مداخلت ، جنگلوں کا صفایا، ندی نالوں اور گلیشروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پہاڑی علاقوں میں بادل اور بجلی گرنے کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آنے سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے پہاڑی علاقوں خاص کر ندی نالوں کے قریب رہائشی مکان تعمیر کرنا اور جنگلی علاقوں میں انسانوں کی دراندازی سیلاب کی وجوہات ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں تباہ کن سیلابی صورتحال پر ملک کے ماہرین کے درمیان تبادلہ خیال شروع ہو گیا ہے اور سیلاب کی سب سے بڑی وجہ قدرتی جگہوں پر انسانوں کی مداخلت اور ان جگہوں کو غلاظت اور گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل کرنا سب سے اہم وجوہات بتائی جار ہی ہے۔ ماہرین کے مطابق لوگوں کی جانب سے پہاڑی علاقوں میں رہائش اختیار کرنا ، گلیشروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا ، ندی نالوں میں گندگی ڈالنے سے ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں بادل اور بجلی گرنے کے ساتھ ہی سیلاب آنے سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ قدرتی جگہوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے کسی بھی صورت میں مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اتر اکھنڈ میں جو تباہی ہوئی ملک اور بیرون ممالک کے سائنسدانوں نے تحقیقات کے دوران پایا کہ پہاڑی علاقوں میں لوگوں کی موجودگی اور ندی نالوں کو غلاظت اور گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کرنے سے پہاڑی علاقوں میں سیلاب آنے کی وجوہات ہے اور ماہرین نے متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر لوگوں نے اپنی طرز زندگی میں تبدیل نہیں لائی اورپہاڑی علاقوں میں مداخلت کرنے سے بازنہیں آئیں تو اس سے بھی زیادہ تباہ کن صورتحال کا لوگوں کوسامنا کرناپڑسکتا ہے۔ تحقیقات کے دوران سائنسدانوں نے پایا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں جن میں ریاست جموں وکشمیر بھی شامل ہیں کے لوگ زیادہ سے زیادہ پہاڑی علاقوں میں رہائش اختیار کر رہے ہیں جبکہ گلیشروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے ، جنگلوں کا صفایا کرنے سے بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرناپڑے گا۔ ماہرین نے متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ ریاستوں کو چاہئے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو فوری طور پر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔

Comments are closed.