وادی میں سیلابی صورتحال برقرار 3افراد لقمہ اجل

ریاست بھر میں سیلابی صورتحال رام منشی باغ ، سنگم اور عشم میں دریائے جہلم خطرے کے نشان کو پار کر گیا ۔
فلڈ کنٹرول محکمہ نے شہر سرینگر کے نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو محتاط رہنے کی صلاح دی ۔ کرسو راجباغ ، رام باغ اور مہجور نگر، بمنہ ، بوٹ کالونی کے علاقے زیر آب

سرینگر؍30؍جون؍ جے کے این ایس؍ ریاست بھر میں جمعرات سے جاری موسلادھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی کے خطرہ کے پیش نظررام منشی باغ، سنگم اور عشم میں دریائے جہلم خطرے کے نشان کو پار کرگیا جس کے بعدمحکمہ فلڈ کنٹرول نے جنوبی ، وسطی اور شمالی کشمیر میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی۔ٹنل کے آر پار پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران تین افراد غرقہ آب ہو کر لقمہ اجل ۔ اس دوران گورنر انتظامیہ نے جنوبی کشمیر سمیت دیگر اضلاع میں خصوصی کنٹرول روم قائم کرکے افسران کو ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کیلئے پوری طرح تیار رہنے کی ہدایت دی ہے جبکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آج سے موسم میں بہتری ٓئے گی۔شہر سرینگر کے کرسو راجباغ ، بمنہ ، بوٹ کالونی ، سونہ وار ، بٹہ وار میں پانی رہائشی بستیوں میں گھس گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق پیر پنچال کے آر پار بالائی اور نشیبی علاقوں میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارشوں کاسلسلہ جاری رہاجس کے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ بارشوں کی وجہ سے وادی بھر کے دریاؤں اور ندی نالوں میں مسلسل سطح ٓآب میں اضافہ ہوتا رہا۔دریاؤں اور ندی نالوں میں صبح9بجے سے سطح آب میں اضافہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔محکمہ فلڈ کنٹرول کی ویب سائٹ پر صبح دس بجے سے دریاؤں اور نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ کے حوالے سے جانکاری فراہم کی جاتی رہی۔ محکمہ فلڈ کنٹرول کے چیف انجینئر نے بتایا کہ لگاتار ہو رہی بارشوں کے نتیجے میں جنوبی کشمیر کے نالوں میں پانی کی سطح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور لوگوں سے احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔چیف انجینئر کے مطابق سنگم ، رام منشی باغ اور عشم میں دریائے جہلک خطرے کے نشان کو پار کر گیا جس کے بعد محکمہ فلڈ کنٹرول نے جنوبی ، وسطی اور شمالی کشمیر مین سیلاب کی وارننگ جاری کردی ۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلا ع دی ہے کہ نالہ ویشنو ، نالہ برنگی ، نالہ سندرن ، نالہ رمبہ آرا اور نالہ لدر میں پانی کی سطح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے کے نتیجے میں ندی نالوں کے آس پاس رہائش پذیر لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ نمائندے کے مطابق کولگام کے کئی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی صلاح دی گئی ہے۔ اننت ناگ اور پلوامہ میں بھی سیلابی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ نالہ ویشنومیں طغیانی کی صورتحال پیداہوگئی ہے ،اورنالے کاپانی کئی دیہات وبستیوں میں داخل ہوچکاہے جبکہ دمہال ہانجی پورہ اوراشتھل میں واقع وہ دونوں چھوٹے پْل پانی کے تیزبہاؤمیں بہہ گئے ہیں جوسال2014کی سیلابی صورتحال کے دوران بھی بہہ گئے تھے۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ دمہال ہانجی پورہ کے نزدیک قائم پْل ڈھ جانے کے نتیجے میں کم سے کم 14دیہات کارابطہ کٹ کررہ گیاہے جبکہ اشتھل کی پوری بستی سیلاب کی زدمیں آچکی ہے اوریہاں قائم پْل ڈھ جانے کی وجہ سے کم وبیش9دیہات کازمینی یاسڑک رابطہ کٹ کرہ گیاہے۔نالہ ویشو کے مقام پر درجنوں واٹر سپلائی سکیمیں بھی ناکارہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ کھڈی ونی کیمو سڑک پر گھپہ بل اور یاری پوری کراسنگ کے مقام پر تقریب 2فٹ پانی سڑک پر جمع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اننت ناگ کولگام سڑک ٹریفک کی نقل و حرکت کیلئے ہو گئی۔ڈی سی کولگام نے بتایا کہ سیلابی صورتحال سے نپٹنے کیلئے انتظامیہ کو متحرک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نالہ ویشو کے نزدیک آباد بستیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے لازمی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ خطرات کے مقامات پر 50ہزار سے زیادہ ریت سے بھرے تھیلے تیاری کی حالت میں رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیاری کی حالت میں رہیں تاکہ امکانی صورتحال کے دوران جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ادھر پانپور میں اعلیٰ الصبح دریائے جہلم کا باندھ ٹوٹ گیا تاہم محکمہ آر اینڈ بی اور پولیس نے فوری طورپر کارروائی عمل میں لاکر باندھوں پرریت کے تھیلے ڈال دئے جس کے نتیجے میں پانی کو روک دیا گیا ۔ شہر سرینگر کے نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی رہائشی بستیوں میں گھس گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق سونہ وار ، بادامی باغ شاہراہ پر دو فٹ پانی جمع ہو گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو اس راستے پر نہ چلنے کی صلاح دی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ بٹوارہ کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے پانی کے نکاس کو یقینی بنانے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ کرسو راجباغ اور مہجور نگر میں بھی پانی رہائشی مکانوں کی بنیادوں میں گھس گیا ہے اور لوگ دوسری جگہوں پر منتقل ہو رہے ہیں۔ نمائندے نے بتایا کہ گورنر انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے لوگوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کیلئے تمام طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ کشتیوں کو بھی ان علاقوں میں پہنچایا گیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال کے دوران لوگوں کو فوری طورپر محفوظ جگہوں کی طرف منتقل کیا جاسکے۔ ادھر ٹینگ پورہ بائی پاس کے نزدیک دریائے جہلم میں ایک کتا پانی میں پھنس کر رہ گیا اس دوران کنارے پر موجود ایک نوجوان جس کی شناخت عاصف احمد ساکنہ نگروٹہ جموں کے بطور ہوئی ہے نے کتے کو بچانے کیلئے اپنی جان کو ہی داو پر لگا دیا ۔ نمائندے کے مطابق جونہی نوجوان نے دریائے جہلم میں چھلانگ لگائی تاہم پانی کے تیز بہاو کے باعث نوجوان واپس نہیں مڑ سکا جس کے نتیجے میں وہ غرقہ آب ہو کر لقمہ اجل بنا۔ نمائندے کے مطابق اگر چہ اس نوجوان کو بچانے کیلئے ایک اور شخص نے دریا میں چھلانگ لگائی تاہم وہ بھی نوجوان کو بچا نہ سکا اور پانی کے تیز بہاو کے باعث دوسرا نوجوان کسی طرح اپنے آپ کو کنارے تک لیجانے میں کامیاب ثابت ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان کی نعش کو تلاش کرنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ابھی پانی کا بہاو ہے نوجوان کی نعش کو ڈھونڈ پانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ دریں اثنا پونچھ میں دو افراد اُس وقت غرقہ آب ہوئے جب پانی کے تیز بہاو نے دونوں کو بہا کر لیا ۔ انتظامیہ کی جانب سے نوجوانوں کی نعشوں کو باز یاب کرنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔

Comments are closed.