چھاٹہ پورہ پلوامہ میںخونین معرکہ آرائی اختتام پذیر ، تین جنگجو ئوں جاں بحق ، تلاشی آپریشن جاری

فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپوں میں نوجوان جاں بحق ، درجنوں مضروب

سرینگر /29جون /سی این آئی جنوبی قصبہ پلوامہ کے چاٹہ پورہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جاری خونین معرکہ آرائی اختتام پذیر ہوئی جس دوران تین لشکر طیبہ سے وابستہ تین جنگجوئوں جاں بحق ہو گئے ۔ ریاستی پولیس سربراہ نے جھڑپ میں تین جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ اسی دوران پُر تشدد مظاہروںکے دوران ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے جن میں سے کئی ایک کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ کے چاٹہ پورہ علاقے میں تین سے چار لشکر جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کے 55راشٹریہ رائفلز ،سی آر پی ایف اورایس او جی پلوامہ نے علاقے کا محاصرہ میں لیا اور تلاشی کارروائی شرو ع کی ، معلوم ہوا ہے کہ جیسے ہی علاقے میں فورسز نے محاصرہ کیا تو وہاں ایک رہائشی مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند گولیاں چلائی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ گولیاں چلنے کی آواز کے ساتھ ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی جس کے ساتھ ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کئے اور جنگجوئوں مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ ذرائع سے معلوم ہواہے کہ نوجوانوں نے جھڑپ کے مقام کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جس دوران فورسز نے ان کا راستہ روک لیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کے جواب میں پولیس وفورسز نے سنگباری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس اور پیلٹ گولیوں کا استعمال کرنے کے علاوہ ہوا میں گولیاں چلائیں ۔ پولیس و فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال کرنے کے دوران مبینہ طور پر 20 سے زائدافراد زخمی ہوئے جن میں سے روف احمد نامی نوجوان کی ٹانگ میں گولی پیوست ہونے کے بعد اسے بھون اینڈ جوائنٹ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کھریو پانپور سے تعلق رکھنے والے کمسن طالب علم فئضان احمد کو بھی گولی لگی جس کے بعد اگرچہ اسے ضلع اسپتال پلوامہ پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے وہاں مردہ قرار دیا ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی احتجاجی مظاہروں میں شدت آئی جس کے ساتھ ہی فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اندھا دھند گولیاں چلائی ۔ معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے جبکہ برستی بارش کے بیچ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک رہائشی مکان میں تین جنگجوئوں محصور تھے جس دوران فورسز نے مکان کو باردی دھماکوں سے اڑا دیا اور جس دوران جھڑپ میں تین جنگجوئوں جاں بحق ہوگئے ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے چاٹہ پورہ پلوامہ میں تین جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں ایس پی وید نے لکھا کہ جھڑپ میں تینوں جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا جس کیلئے انہیں فورسز کو مبارک باد دی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں تلاشی کارروائی جاری ہے اور تینوں جنگجوئوں کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

Comments are closed.