آزاداور سوزکیخلاف دلی کی عدالت میں عرضی دائر

بغاوت کامقدمہ چلانے کی استدعا؛آج ہوگی شنوائی
سری نگر:٢٩،جون:کے این این/ سابق وزیراعلیٰ اورراجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈرغلام نبی آزاداورسابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوزکیخلاف پٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی میں ایک وکیل نے شکایت دائرکردی ہے جس میں دونوں کانگریس لیڈران کوبغاوت کامرتکب قراردیکراُن کیخلاف انڈین پینل کوڈکی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی استدعاکی گی ہے۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق کانگریس کے سینئرلیڈرغلام نبی آزادکے حالیہ بیان کہ کشمیرمیں ملی ٹنٹ مخالف کارروائیوں کے دوران جنگجوکم اورعام شہری زیاد ہ مارے جاتے ہیں ،کیخلاف دلی کے ایک وکیل نے مقامی عدالت میں شکایت جمع کرادی ہے ۔خبررساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘کے مطابق نئی دہلی کے ایک وکیل ایڈوئوکیٹ ششی بھوشن نے پٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی میں جمع کرائی گئی الگ الگ تحریری شکایات میں یہ موقف اپنایاہے کہ غلام نبی آزاداورپروفیسرسیف الدین سوزکے کشمیرمسئلے اورکشمیرمیں ہلاکتوں سے متعلق حالیہ بیانات ملک سے بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں ،اسلئے دونوں کیخلاف انڈین پینل کوڈکی دفعات زیرنمبر124(بغاوت)،120B(مجرمانہ سازش)اوردفعہ505(1)(فوج وفورسزکیخلاف غلط افواہیں پھیلانا)کے تحت مقدمے درج کئے جائیں۔ایڈوئوکیٹ بھوشن نے اپنی شکایت میں کہاہے کہ غلام نبی آزادنے اپنے بیان کے ذریعے فوج کوبطورقاتل پیش کرنے کیساتھ ساتھ ملک کیخلاف جنگ جیسی حرکت کاارتکاب کیاہے ۔ پٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی کے جج نے غلام نبی آزادکیخلاف دائرکردہ شکایت کومنظورکرتے ہوئے اس معاملے کی شنوائی کیلئے سنیچرکادن مقررکیا۔خیال رہے کانگریس کے سینئررہنماغلام نبی آزادنے22جون کوایک ٹی وی انٹرویوکے دوران کہاتھاکہ جب کشمیرمیں جنگجومخالف آپریشن عمل میں لائے جاتے ہیں تواس دوران جنگجوئوں سے زیادہ عام شہری مارے جاتے ہیں ۔اُدھرسیف الدین سوزکیخلاف پٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی میں دائرشکایت میں وکیل ششی بھوشن نے یہ دلیل دی ہے کہ کانگریس سے وابستہ اس لیڈرنے بھی ملک دشمنی کاثبوت دیاہے،اسلئے اُن کیخلاف بھی بغاوت کامقدمہ چلایاجائے ۔پٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی کے جج نے پروفیسرسوزکیخلاف دائرکردہ شکایت کومنظورکرتے ہوئے اس معاملے کی شنوائی کیلئے سنیچرکادن مقررکیا۔خیال رہے سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز نے گزشتہ دنوں کہاتھاکہ کشمیرکی پہلی ترجیح آزادی ہے۔انہوں نے کہاتھاکہ ایسی صورت حال میں جب سرحدوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، کم ازکم کشمیرکے دونوں حصوں میں لوگوں کو امن سے زندگی گزارنے دینا چاہئے۔ سیف الدین سوز نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اورسابق وزیراعظم منموہن سنگھ بھی اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے، لیکن وہ بھی اسے(کشمیرمسئلے کو) حل نہیں کرپائے۔

Comments are closed.