مزاحمتی لیڈرایازاکبرکی تہاڑجیل میں جاری اسیری
علیل اہلیہ اوردیگرافرادخانہ موصوف کی رہائی کے منتظر
سری نگر:٢٩،جون:کے این این/ سیدعلی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس کے ترجمان ایازاکبرکی متواتر11ماہ سے جاری اسیری نے موصوف کے اہل خانہ کوسخت آزمائش سے دوچارکردیاہے کیونکہ ایازاکبرکی اہلیہ موزی مرض کینسرسے لڑرہی ہیں جبکہ دیگرافرادخانہ بھی مختلف نوعیت کی مشکلات کاسامناکررہے ہیں ۔24جولائی2017کوقومی تحقیقاتی ایجنسی کے ہاتھوں مبینہ حوالہ اسکنڈل ے سلسلے میں گرفتارحریت(گ) ترجمان ایازاکبرکے اہل خانہ نے کے این این کوبتایاکہ ہم سال1996سے ہی مشکلات کاسامناکرتے آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1996میں سرکارنوازاخوانی بندوق بندوق برداروں نے ایازاکبرکواغواکرلیا،اوربھاری رقم لینے کے بعدانہوں نے موصوف کوچھوڑا۔انہوں نے کہاکہ اسکے بعدسال2002،2008،2009،2010،2013،2014اور2016میں ایازاکبرکوگرفتارکرکے طویل اوقات تک مقیدرکھاگیا۔اہل خانہ کاکہناتھاکہ 1996سے موصوف نے لگ بھگ 6سے7برس جیلوں میں گزاے جبکہ اس دوران خانہ نظربندی ایازاکبرکیلئے روزکامعمول بنادی گئی ۔محبوس مزاحمتی لیڈرایازاکبرکے بڑے بیٹے نے بتایاکہ ہماری والدہ موزی مرض میں مبتلاء ہیں ،اوراب اُنکی دیکھ بال ہمارے لئے ایک بڑاامتحان ہے ۔انہوں نے کہاکہ گھرکے کچھ دوسرے افرادبھی مہلک بیماریوںکاسامناکررہے ہیں ۔اپنے محبوس والدکوبے قصورقراردیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ این آئی اے کی ٹیم نے جب ماہ جولائی2017میں ہمارے گھرپرچھاپہ ڈالااورلگ بھگ 12گھنٹے تک سبھی افرادخانہ کوگھرمیں محصوررکھ کرتلاشی لی توانہوں نے کچھ رقم ،زمین کے کاغذات اورحریت کانفرنس کے کچھ اخباری بیانات کی کاپیاں یانقل اپنی تحویل میں لیں ۔ایازاکبرکے فرزندکاکہناتھاکہ این آئی اے کی ٹیم نے ضبط شدہ رقم اورکاغذات وغیرہ کی جورسیدہمیں جاتے جاتے دی ،اُس میں لکھاہے کہ انہوں نے ہمارے گھرسے کل90ہزارروپے کی رقم ضبط کی ،جس میں سے 60ہزارمقامی مسجدکمیٹی کے تھے جبکہ باقی 30ہزارروپے ہمارے گھریلوخرچہ جات کے تھے ۔انہوں نے والد کی طویل اورمسلسل اسیری کوبلاجوازقراردیتے ہوئے سوال کیاکہ کوئی سنگین جرم ثابت ہونے پربھی ملزم کوضمانت پرہاکیاجاتاہے لیکن میرے والداورتہاڑجیل میں بنددوسرے مزاحمتی لیڈران کواس قانونی حق سے بھی محروم رکھاگیاہے جویہ ثابت کرتاہے کہ اُنکی گرفتاری ایک سیاسی انتقام گیری کے سواء کچھ بھی نہیں ۔
Comments are closed.