کشمیری صحافیوں سے متعلق لال سنگھ کا متنازعہ بیان:عمر عبداللہ
شجاعت کی ہلاکت غنڈوں کا ڈرانے کیلئے نیا ہتھیار
سرینگر:۲۳،جون:کے این این/ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سابق ریاستی کابینہ وزیر لال سنگھ کے صحافیوں سے متعلق متنازعہ بیان پر اپنا سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینئر صحافی شجاعت کی ہلاکت عنڈوں کیلئے ایک ایسا ہتھیار ہے جسے صحافیوں کو ڈرانے کیلئے استعمال کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ چودھری لال سنگھ نے کشمیری صحافیوں سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا تھا ،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیری صحافیوں کو شجاعت بخاری کے قتل سے سبق لینا چاہئے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سابق ریاستی کابینہ وزیر لال سنگھ کے صحافیوں سے متعلق متنازعہ بیان پرسخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔انہوں نے بی جے پی کے باغی لیڈر چودھری لال سنگھ کے متنازعہ بیان پر کہا کہ غنڈے اب سید شجاعت بخاری کے قتل کو صحافیوں کو ڈرانے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر اس ضمن میں اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا ’ڈیئر جرنلسٹس (پیارے صحافیوں)،کشمیر میں آپ کے ساتھیوں کو بی جے پی کے ایک ممبر اسمبلی نے دھمکی دی ہے،ایسا لگتا ہے کہ شجاعت کی ہلاکت اب غنڈوں کیلئے ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو وہ صحافیوں کو ڈرانے کے لئے استعمال کررہے ہیں‘۔یاد رہے کہ جمعہ کو جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سابق کابینہ وزیر چودھری لال سنگھ کشمیری صحافیوں سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا تھا ،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیری صحافیوں کو شجاعت بخاری کے قتل سے سبق لینا چاہئے۔انہوں کشمیری صحافیوں سے مخاطب کہا ہے کہ وہ سید شجاعت بخاری کے قتل سے سبق سیکھ لیں۔لال سنگھ نے کہا کہ کشمیری صحافیوں نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملے کو لیکر ہندوستانی عوام میں ڈوگروں کو لیکر غلط تاثر پیدا کیا،لہٰذا اُنہیں شجاعت کی موت سے سبق سیکھنا چاہئے ۔یاد رہے کہ عید الفطر سے دور وز قبل14جون بروز جمعرات شام ساڑھے 7بجے قریب نامعلوم بندوق برداروں نے سینئر صحافی سید شجاعت بخاری پریس کالونی سرینگر میں اپنے دفتر کے باہر نذدیک سے گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کردیا۔اس مسلح حملے میں سینئر صحافی کے دو محافظ بھی ہلاک ہوئے تھے ۔
موبائیل انٹر نیٹ خد مات،ریل سروس
Comments are closed.