ایچ ایم ٹی ،اننت ناگ اورپلوامہ میں تعزیتی ہڑتال

پلوامہ کے جاں بحق جنگجوکی نمازِ جنازہ 6 بار ادا ،ہزاروں شریک

سرینگر:۲۳،جون:کے این این/ جنوبی قصبہ بجبہاڑہ کے مضافاتی گاؤں سری گفوارہ نو شہرہ میں جاں بحق 4 جنگجوؤں میں سے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجوکی نماز جنازہ 6بار ادا کی گئی ،جن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔اس دوران جاں بحق جنگجوؤں اور عام شہری کی یاد میں ایچ ایم ٹی سرینگر ،بجبہاڑہ اور پلوامہ میں تعزیتی ہڑتال رہی جسکے نتیجے میں ان علاقوں میں معمولات زندگی متاثر رہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق کھرم سری گفوارہ نوشہرہ بجبہاڑہ میں جمعہ کے روز ہوئی خونین معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوئے4جنگجوؤں میں سے ایک جنگجو ماجد منظور ڈار کا تعلق تلنگام پلوامہ سے تھا ،کی تدفین ہفتہ کو کی گئی ۔معلو م ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کی نماز جنازہ آبائی علاقوں میں ادا کی ،جس میں شرکت کرنے کیلئے آس پڑوس کے درجنوں دیہات سے لوگوں کی ایک کثیر تعداد یہاں پہنچ گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ جاں بحق جنگجو کی نما زِ جنازہ لوگوں کی بھاری شرکت کے سبب6بار ادا کی گئی ۔جاں بحق جنگجو کو بعد ازاں فلک شگاف نعروں اور جذباتی مناظر میں مقامی قبرستان میں سپر لحد کیا گیا ۔یاد رہے کہ ڈار اپنے دیگر تین ساتھیوں داؤد احمد صوفی ساکنہ ایچ ایم ٹی سرینگر ،عادل رحما ن بٹ ساکنہ اننت ناگ اور محمد اشرف ایتو ساکنہ اننت ناگ جنوبی قصبہ بجبہاڑہ کے مضافاتی گاؤں سری گفوارہ نو شہرہ میں فوج وفورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق ہوا تھا ۔اس جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار عاشق حسین اور عام شہری محمد یوسف راتھر جاں بحق ہوا تھا جبکہ کئی مظاہرین زخمی ہوئے تھے ،اس دوران جاں بحق جنگجوؤں اور عام شہری کی یاد میں ایچ ایم ٹی سرینگر ، اننت ناگ اور پلوامہ میں تعزیتی ہڑتال رہی جسکے نتیجے میں ان علاقوں میں معمولات زندگی متاثر رہے ۔معلوم ہوا ہے کہ ان علاقوں میں ہفتہ کو دکانات ،تجارتی مراکز ،کاروباری ادارے اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بھی متاثر رہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ اننت ناگ ،کولگام ،پلوامہ اور شوپیان کی مین سڑکوں وشاہراہوں سے پبلک ٹرانسپورٹ گائب رہا ۔تاہم سرینگر ۔جموں شاہراہ پر بغیر کسی خلل کے ٹریفک جاری رہا جبکہ کئی اندرونی علاقوں میں اکا دکا گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی گئی ۔اننت ناگ ،کولگام ،پلوامہ میں تعلیمی ادارے بند رہے اور طلبہ نے گھروں کے اندر رہنے کو ہی ترجیح دی ۔ادھر حساس علاقوں میں امن وقانون کی صورتحال برقر ار رکھنے کیلئے پولیس وفورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی ۔دریں اثناء ہفتہ کو وادی کے دیگر علاقوں میں معمول کے مطابق کاروباری اور دیگر سرگرمیاں جاری رہیں ۔جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی ۔

Comments are closed.