قانون ساز اسمبلی فور ی طور تحلیل کرنا خارج ازمکان

گورنر راج کی مدت کے طویل ہونے کا امکان
حالات کشیدہ، الیکشن کا ماحول بننا محال، نئی گڑھ جوڑ سرکار بنانے کے آثار کم ،مین اسٹریم جماعتوں کابحالی مذاکرات پرزور

سرینگر:۲۳،جون:کے این این/ پی ڈی پی ،بھاجپا حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں پیدا شدہ سیاسی بحران کے بیچ اس کا بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں نافذ8ویں مرتبہ گور نر راج کی مدت کے طویل ہونے کا قوی امکان ہے ۔اس دوران کشمیر کے موجودہ کشیدہ صورتحا ل کے پیش نظر قانون ساز اسمبلی کو فوری طور پر تحلیل کرکے قبل از وقت اسمبلی انتخابات کرانا سیکورٹی ایجنسیوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کیلئے بڑا چیلنج ہے ،کیونکہ اننت ناگ کے پارلیمانی ضمنی انتخابات کو بھی کشمیر کی کشیدہ اور غیر یقینی صورتحال کے سبب غیر معینہ عرصے کیلئے ملتوی کردیا گیاتھا ۔اِدھر اگرچہ وفاداریاں بدل کر نئی گڑھ جوڑ سرکار بنانے کی کافی چمہ گویاں ہورہی ہیں ،تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ علاقائی پارٹیوں کی حمایت کے بغیر جموں وکشمیر میں سرکار کا قیام عمل میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔اُدھر نیشنل کانفرنس،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)اور کانگریس سمیت تمام مین سیاسی جماعتوں نے امن مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کو غیر یقینی صورتحال کے بھنورسے باہر نکالنے کیلئے بات چیت ہی واحد ذریعہ ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بی جے کی جانب سے محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کی حمایت واپس لیکر انکی حکومت کو اچانک گرادینے کے اگلے ہی روز ریاست میں گورنر راج نافذ ہوگیا۔گورنر این این ووہرا نے باضابطہ انتظامیہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔یہ لگاتار چوتھی مرتبہ ہے کہ جب این این ووہرا براہ راست ریاستی حکومت کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں جبکہ مجموعی طور گذشتہ چالیس سال کے دوران یہ آٹھویں مرتبہ ہے کہ جب ریاست میں گورنر راج نافذ ہوا۔5مئی1936 کو جنمے گورنر موصوف 1959 کے پنجاب کیڈر کے سابق آئی پی ایس افسر نریندر ناتھ ووہرا ریاست کے 12ویں اورسابق گورنر جگموہن کے بعد پہلے سویلین گورنر ہیں۔انہیں سال2008میں گورنر بنایا گیا تھا جسکے بعد انکی مدت کار میں توسیع کی گئی۔ اس دوران انہیں چار بار براہ راست حکومت سنبھالنے کو کہا گیا۔موجودہ گور نر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ مسلسل10برسوں سے اس عہدے پرفائز ہیں ۔’’قطبین کا ملاپ‘‘اور’’تاریخی اتحاد‘‘بتائے جاتے رہے بی جے پی۔پی ڈی پی گٹھ جوڑ کے 19جون کو اچانک ہی ٹوٹ جانے کے بعد ریاست میں دوسرے کسی اتحاد کی سرکار بنانا تقریباََ نا ممکن ہے اور اسی لئے مرکزی سرکار نے ریاست میں فوری طور گورنر راج نافذ کروادیا ہے۔چناچہ ووہرا نے فوری طور زمام اقتدار سنبھالی۔اب جبکہ محبوبہ مفتی کی حکومت کو گرادیا گیا ہے ریاست میں آٹھویں مرتبہ گورنر راج نافذ ہوا ہے جو ،مبصرین کے مطابق،کئی مہینوں یا سالوں کیلئے جاری رہ سکتا ہے کیونکہ ریاست کے حالات کشیدہ ہیں اور الیکشن کا ماحول بننا محال نظر آرہا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ عوامی موڈ کو دیکھتے ہوئے ابھی ابھی گئی سرکار نہ پنچایتی الیکشن کراسکی ہے اور نہ ہی محبوبہ مفتی کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر جنوبی کشمیر میں خالی ہوچکی پارلیمانی نشست پر ہی چناو کراسکی ہے۔اس دوران اندازہ ہے کہ جلد ہی شروع ہونے جارہی سالانہ امرناتھ یاترا کے اختتام کے فوری بعد بی جے پی ریاست کیلئے گورنر تبدیل کرسکتی ہے جسکے لئے ایک سابق فوجی جنرل کا نام لیا جارہا ہے۔ادھر یہ چمہ گویاں ہورہی ہیں کہ شاید جوڑ توڑ یا سیاسی سودا بازی کرکے ریاست جموں وکشمیر میں گڑھ جوڑ کی سرکاربنائی جائیگی ،تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ناممکن ہے کیونکہ جب تک ریاست میں علاقائی پارٹیوں کی حمایت نہیں ہوگی ،تب یہاں سرکار بنانا ناممکن ہی ہے ۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پی ڈی پی کو متحد رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں لیکن پارٹی کے گرتے سیاسی گراف کی وجہ سے کئی اراکین اسمبلی موقع کی تلاش میں ہیں۔جموں و کشمیر میں پی ڈی پی۔بی جے پی اتحادی حکومت وقت سے قبل گر جانے کے بعد پی ڈی پی سربراہ اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے سامنے اپنی پارٹی کو متحد رکھنے کا سخت چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔ بی جے پی سے اتحاد کرنے سے پی ڈی پی کے کئی لیڈران پہلے ہی ناراض تھے، اور اب جب کہ بی جے پی نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ہے تو محبوبہ مفتی کے خلاف پی ڈی پی لیڈروں کی ناراضگی بھی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بہت جلد پی ڈی پی کے کئی ناراض ممبران اسمبلی دوسری سیاسی جماعتوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔تاہم پارٹی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ،کیونکہ پارٹی متحد ہے اور اسے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھاجپا نے حکومتی اتحاد توڑ کر یہ ثابت کردیا کہ پی ڈی پی ایجنڈا آف الائنس میں بھر پور یقین رکھتی تھی ۔ان کا کہناتھا کہ بھاجپا کے ساتھ حکومتی اتحاد کم ازکم مشترکہ پروگرام کے تحت قائم کیا گیا اور اُس سے باہر پی ڈی پی کیلئے حکومت میں رہنا نا ممکن تھا ۔نیشنل کانفرنس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا حکومتی اتحاد ریاست جموں وکشمیر کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہوا ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کو منقسم منڈیٹ ملنے کے بعد نیشنل کانفرنس نے بغیر کسی شرط کے حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی ،تاہم پی ڈی پی نے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملاکر ریاست کو غیر یقینی صورتحال کے دلدل میں ڈال دیا ۔اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سالانہ امر ناتھ یاترا کے پیش نظر قانون ساز اسمبلی کو فوری طور تحلیل کرکے جموں وکشمیر میں انتخابات کرانا سیکورٹی ایجنسیوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کیلئے صرف ایک بڑا چیلنج ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے چندماہ کے دوران ریاست جموں وکشمیر میں انتخابات کراکے نئی سرکار کا بننا فی الحال محال ہے اور نہ ہی توڑ جوڑ کی سرکار بننے کا کوئی آثار نظر آتا ہے ۔تاہم ذرائع نے بتایا کہ ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ یعنی سیاسی سودا بازی سے محفوظ رہنے کیلئے پی ڈی پی ،این سی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے پارٹی عہدیداروں کو متحرک کردیا دیا ہے جبکہ پارٹی لیڈران ،عہد یداراں اور کارکنان کے ساتھ قریبی تال میں رکھا جارہا ہے ،تاکہ وفا داریاں تبدیل نہ ہو۔اس دوران نیشنل کانفرنس (این سی )،پیلز ڈیموکریکٹ پارٹی (پی ڈی پی)اور کانگریس سمیت تمام مین سیاسی جماعتوں نے امن مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کو غیر یقینی صورتحال کے بھنورسے باہر نکالنے کیلئے بات چیت ہی واحد ذریعہ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں حقیقی امن کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے کیو نکہ جنگ کا راستہ صرف تباہی کی منزل پر ختم ہوتا ہے ۔ادھر سیاسی تجزیہ نگار اور کالم نویس عبید اللہ ناصر کا ماننا ہے کہ جب کشمیر میں سیاسی عمل شروع کر کے خون خرابہ روکنے کی شدید ضرورت تھی، بی جے پی نے محض سیاسی فائدہ کے لئے محبوبہ حکومت کو گرا کر ایک خطرناک سیاسی چال چلی ہے جس کا خمیازہ کشمیر اور ملک کو بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اچانک یہ فیصلہ کیوں لیا اس کے بارے میں سبھی سیاسی مبصّرین متفق ہیں کہ2019 کے پارلیمانی الیکشن میں جارحانہ ہندوتوا کا کارڈ کھیلنے کے علاوہ بی جے پی کے پاس اور کوئی متبادل بچا نہیں ہے اپنے چار سالہ دور حکومت میں مودی حکومت نے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس کی بنیاد پر وہ عوام کے درمیان جا سکے۔ان کا کہناتھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی طاقت کو دیکھتے ہوئے مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے وہ سب سے مناسب وزیر اعظم تھے ، لیکن سیاسی ریاضی اور پارٹی مفاد سے بلند ہو کر وہ یہ سوچ ہی نہیں پاتے کرنا تو دور کی بات۔عبید اللہ کا کہنا ہے کہ اب بھی موقعہ ہے وہ اپنی نظریاتی اور سیاسی سوچ بدلتے ہوئے کشمیری عوام کے ہر طبقہ کو گفتگو میں شامل کریں ، ان میں مین اسٹریم کی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ حریت کانفرنس کو بھی شامل کیا جائے ۔

Comments are closed.