ملی ٹنسی اورتشددکا احیائے نوسابق سرکارکی دین:عمرعبداللہ

مرکزی سرکارکوکشمیرکی موجودہ صورتحال پرشرمندہ ہوناچاہئے

سرینگر:۲۳،جون:کے این این/ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ’’ملی ٹنسی اورتشددکے احیائے نوکوسابق سرکارکی دین‘‘قراردیتے ہوئے کہاہے کہ مرکزی سرکارکوکشمیرکی موجودہ صورتحال پرشرمندہ ہوناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں مزید جنگجوؤں کی ہلاکت سے متعلق کئے جارہے دعوے ثابت کرتے ہیں کہ کشمیرمیں ملی ٹنسی میں اضافہ ہواہے ۔اس دوران سابق وزیراعلیٰ نے مختلف کارپوریشنوں اوربورڈوں کی کمان سیاسی افرادکے ہاتھوں میں ہونے کاذکرکرتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہاکہ سرکارتوگرگئی لیکن اسکے نامزدکردہ افرادابھی بھی مختلف عہدوں پربراجمان ہیں ۔کے این این کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدراورسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے مرکزی وزیرروی شنکرپرسادکے بیان کہ آنے والے دنوں میں ملی ٹنٹوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں تیزی لائی جائیگی ،کومرکزی سرکارکی ناکامی کامظہرقراردیتے ہوئے یہ اس بات کاثبوت ہے کہ پی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکے دورمیں ملی ٹنسی اورتشددکوفروغ ملا۔انہوں نے کہاکہ جب مرکزی وزراء اوربھاجپالیڈران آنے والے دنوں میں جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہونے کی بات کہتے اورکرتے ہیں تواس کاصاف مطلب یہ نکلتاہے کہ حالیہ کچھ برسوں میں ملی ٹنسی میں بھی اضافہ ہوا،اورتشددکے واقعات بھی بڑھے ہیں ۔عمرعبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹرپرتحریرکردہ اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’’دراصل مرکزی وزیر(روی شنکرپرساد)کابیان یہ ثابت کرتاہے کہ جموں وکشمیرمیں ملی ٹنسی اورتشددمیں اضافہ ہواہے‘‘۔انہوں نے مرکزی وزیرسے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ مزیدجنگجوؤں کوہلاک کرنے کادعویٰ کررہے ہیں جوکہ ملی ٹنسی بڑھ جانے کااعتراف ہے ،اسلئے آپ کوشرمندہ ہوناچاہئے ۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ کشمیرمیں سرگرم جنگجوؤں کے بارے میں جواعدادوشماربیان کئے جاتے ہیں ،وہ بھاجپاکی سربراہی والی مرکزی سرکارکیلئے باعث شرمندگی ہوناچاہئے کیونکہ اس جماعت کی ملی جلی سرکارکے دورمیں ہی کشمیرمیں ملی ٹنسی اورتشددمیں اضافہ ہواہے ۔اس دوران سابق وزیراعلیٰ نے مختلف کارپوریشنوں اوربورڈوں کی کمان سیاسی افرادکے ہاتھوں میں ہونے کاذکرکرتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہاکہ سرکارتوگرگئی لیکن اسکے نامزدکردہ افرادابھی بھی مختلف عہدوں پربراجمان ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سابق مخلوط سرکارنہیں رہی لیکن اس کے نامزدکردہ سیاسی افراداب بھی مختلف کارپوریشنوں اوربورڈوں میں اپنی کرسیوں پربراجمان ہیں ۔

Comments are closed.