شیریں باغ کرن نگر سرینگرشوٹ آؤٹ

زخمی ہیڈ کا نسٹیبل 8روز بعد اسپتال میں دم توڑ بیٹھا

سری نگر:۲۲،جون:کے این این/ شیریں باغ کرن نگر سرینگر شوٹ آؤٹ میں زخمی دو پولیس اہلکاروں میں سے ہیڈ کانسٹیبل 8روز تک صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاء رہنے کے بعد جمعہ کی صبح زخموں کی تاب ناکر دم توڑ بیٹھا۔مہلوک پو لیس اہلکار کے اعزاز میں ضلع پولیس لائنز سرینگر میں تعزیتی وگلباری کی تقریب منعقد ہوئی ،جس میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر شیش پال وید سمیت کئی افسران نے شرکت کی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق 15جون کو شیریں باغ کرن نگر سرینگر میں ڈینٹل کالج کے نزدیک پولیس وفورسز کے مشترکہ چیک پوسٹ پر فائرنگ میں زخمی ہونے والا ہیڈ کانسٹیبل حبیب اللہ ساکنہ بمئی سوپور بلٹ نمبر2777/S،8 بروز تک صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زیر علاج رہنے کے بعد جمعہ کو دم توڑ بیٹھا ۔پولیس ترجمان کے مطابق مذکورہ اہلکار مسلح حملے میں شدید زخمی ہوا تھا ،جس کے بعد وہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں زیر علاج رہا ۔تاہم جمعہ کی صبح اُس نے زندگی کی آخری سانس لی ۔یاد رہے کہ اس مسلح حملے میں دو اہلکار اور کئی عام شہری زخمی ہوئے تھے ۔مہلوک ہیڈ کانسٹیبل کے اعزاز میں ضلع پولیس لائنز (ڈی پی ایل ایس ) میں تعزیتی وگلباری کی تقریب منعقد ہوئی ۔اس تقریب میں سیول وپولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ،جن میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید کے علاوہ اے ڈی جی پی آر مڈ اے کے چودھری ،ڈائریکٹر ویجی لینس ایس جے ایم گیلانی ،آئی جی پی کشمیر ،ایس پی پانی ،ڈی آئی جی سی کے آر وی کے بردی ،ڈی آئی جی بی ایس او اوپریشنز ہری لال ،ڈی سی سرینگر ،ایس ایس پی سرینگر اور دیگر سینئر افسران شامل ہیں ۔پولیس وسیول حکام نے مہلوک ہیڈ کانسٹیبل کو خراج پیش کیا ۔بعد ازاں اُسے آبائی علاقہ سوپور میں سپرد لحد کیا گیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل اپنے پیچھے بیوہ ،3لڑکیاں اور2لڑکے چھوڑ گیا ۔پولیس ترجما ن نے بتایا کہ مذکورہ اہلکار کی21سالہ رفعت آرا کی اگلے ہفتے شادی تھی ۔اسکی دوسری بیٹی انشاء 10ویں جماعت کی طالبہ ہے جبکہ رُبینہ چھٹی جماعت کی طالبہ ہے ۔اس کا ایک بیٹا غلام محی الدین 22سال کا ہے جبکہ دوسرا قیصر احمد لون26سال کا ہے ۔

Comments are closed.