راج بھون میں ریاستی گورنراین این ووہراکی زیرصدارت کل جماعتی میٹنگ
سیاسی وسلامتی صورتحال پرلیڈران کو خدشات
انجینئررشیدمدعونہیں :ا ے آئی پی ،سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی گورنرسے ملاقی
ترال:۲۲،جون: / جمعہ کی سہ پہرراج بھون میں ریاستی گورنرنریندرناتھ ووہراکی صدارت میں ایک کل جماعتی میٹنگ منعقد ہوئی۔کے این این کومعلوم ہواکہ گورنر کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی میٹنگ میں سابق وزیراعلیٰ ونیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ ،پی ڈی پی کے جنرل سیکرٹری محمدلاؤرمیر،ریاستی کانگریس کے صدرغلام احمدمیر،بی جے پی کے ریاستی صدررویندررینا،سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکرٹری محمدیوسف تاریگامی ،ڈیموکریٹک پارٹی نیشنلسٹ کے صدرغلام حسن میراورپی ڈی ایف سربراہ حکیم محمدیاسین کے علاوہ دیگرکچھ پارٹیوں کے لیڈران نے بھی شرکت کی ۔تاہم عوامی اتحادپارٹی کے مطابق پارٹی صدرانجینئرشیدکوکل جماعتی میٹنگ میں شرکت کیلئے مدعونہیں کیاگیا۔معلوم ہواکہ میٹنگ میں شامل مین اسٹریم لیڈران نے گورنراین این ووہراپرزوردیاکہ جنگجومخالف کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کویقینی بنایاجاناچاہئے اوراس سلسلے میں سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کوسخت ہدایات دی جائیں ۔معلوم ہواکہ بی جے پی کے ریاستی صدرکے بغیرسبھی پارٹیوں کے لیڈران نے اسبات پربھی زوردیاکہ فوج ،فورسزاورپولیس کواسبات کاپابندبنایاجائے کہ وہ زیادتیوں اورسختیوں سے اجتناب کریں ۔انہوں نے گورنرکواسبات کی جانکاری دی کہ کشمیروادی کی سیاسی اورسلامتی صورتحال خرا ب ہے ،اسلئے کوئی بھی واقعہ چنگاری کاکام کرسکتاہے ۔مین اسٹریم پارٹیوں کے لیڈران نے میٹنگ کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے گورنراین این ووہراکوبتایاکہ کشمیری عوام میں عدم تحفظ پایاجاتاہے ،کیونکہ آئے دنوں کسی نہ کسی علاقہ میں زیادتی کاواقعہ پیش آجاتاہے ۔میٹنگ میں شریک ہوئے کچھ لیڈران نے بتایاکہ انہوں نے گورنرکوخبردارکیاکہ فوج اورفورسزکوچھوٹ دئیے جانے کے سنگین نتائج برآمدہوسکتے ہیں ،اسلئے جنگجوؤں یامظاہرین کیخلاف کارروائی عمل میں لاتے وقت معیاری ضابط کاری کی پاسداری کویقینی بنایاجائے ۔مین اسٹریم لیڈران کاکہناتھاکہ نوجوانوں میں ملی ٹنسی کے رُجحان کی ایک بڑی وجہ زیادتی ہے ،اسلئے سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کوواضح ہدایت دی جائے کہ زیادتی اورہراسانی والے طریقہ کارکوترک کیاجائے ۔انہوں نے میٹنگ کے دوران کہاکہ کشمیروادی میں سیاحتی سیزن اورکچھ روزبعدشروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاتراکے پیش نظراحتیاط برتی جائے اورایسی کسی بھی کارروائی سے اجتناب کیاجائے جوحالات کومزیدبگاڑنے کاموجب بن سکتاہے ۔نیشنل کانفرنس اورکانگریس سمیت بیشترپارٹیوں کے لیڈران نے گورنرپرزوردیاکہ ریاستی اسمبلی کوتحلیل کیاجائے تاکہ حکومت بنانے کیلئے کوئی بھی سیاسی جماعت دوسری پارٹیوں سے کوئی جوڑتوڑنہ کرپائے ۔انہوں نے گورنرکی جانب سے اسمبلی کومعطل رکھے جانے کے فیصلے پرتحفظات ظاہرکرتے ہوئے واضح کیاکہ جب تک اسمبلی کوتحلیل نہیں کیاجاتاہے تب تک ہورس ٹریڈنگ کااندیشہ لاحق رہے گا۔بتایاجاتاہے کہ عمرعبداللہ سمیت کچھ لیڈران نے اسمبلی تحلیل کرنے پرزوردیتے ہوئے مطالبہ کیاکہ ریاستی اسمبلی کیلئے نئے انتخابات کرائے جائیں ۔میٹنگ میں شامل ہوئے کچھ لیڈران کے بقول گورنراین این ووہرانے اسمبلی کوتحلیل کئے جانے کی مانگ سنجیدگی کیساتھ سنی تاہم انہوں نے اس مانگ پرمیٹنگ میں کوئی رائے زنی نہیں کی ۔انہوں نے کہاکہ میٹنگ ے دوران انتظامی اورعوامی مطالبات ومسائل سے جڑے کئی اہم معاملات بھی زیرغورلائے گئے ،جن میں ساٹھ ہزارسے زیادہ عارضی ملازمین کی مستقلی کامعاملہ بھی شامل ہے ،جس پرگورنرنے اسبات کی یقین دہانی کرائی کہ اُنکی انتظامیہ عوامی مسائل کوحل کرنے کی طرف فوری توجہ دینے کیساتھ ساتھ تعمیراتی اورترقیاتی روجیکٹوں پرجاری کاموں میں سرعت لائے گی ۔معلوم ہواکہ ریاستی گورنر این این ووہرانے مین اسٹریم لیڈران پزوردیاکہ وہ بحالی امن اوراعتمادکیلئے کی جارہی کوششوں میں اپنارول اداکرتے ہوئے عوام تک اپنی رسائی اورروابط کومزیدبہتربنائیں ۔اُدھر عوامی اتحادپارٹی کے مطابق پارٹی صدرانجینئرشیدکوکل جماعتی میٹنگ میں شرکت کیلئے مدعونہیں کیاگیا۔اے آئی پی ترجمان نے کہاکہ پارٹی صدرچونکہ کشمیر اورکشمیریوں کودرپیش مشکلات اورکشمیرمسئلے کے بارے میں کھل کربات کرتے ہیں ،اسلئے نئی دہلی کی ایماء پرانجینئررشیدکوکل جماعتی میٹنگ میں شرکت کیلئے سرے سے ہی مدعونہیں کیاگیا۔ادھرگورنرکی زیرصدارت کل جماعتی میٹنگ سے پہلے سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے راج بھون جاکرریاستی گورنراین این ووہراکیساتھ ملاقات کی ۔معلوم ہواکہ محبوبہ مفتی نے گورنرموصوف سے کہاکہ اُن (محبوبہ)کی سربراہی والی مخلوط سرکارنے تعمیراتی اورترقیاتی عمل کوآگے بڑھانے کیلئے جووجیکٹ ہاتھ میں لئے تھے ،اُن پرجاری کام کوآگے بڑھایاجائے ۔سابق وزیراعلیٰ نے این این ووہراپرزوردیاکہ عوامی اعتمادبحا ل کرانے کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کوجاری رکھاجائے ۔معلوم ہواکہ ریاستی گورنرنے سابق زیراعلیٰ سے کہاکہ کشمیری نوجوانوں کااعتمادبحال کرکے اُنھیں تشددکے راستوں کودوررکھنے کیلئے سیاسی پارٹیوں اورغیرسیاسی انجمنوں کااہم رول بنتاہے ،اسلئے سبھی سیاسی اورسماجی تنظیموں کواسبارے میں سرگرم عمل ہوجاناچاہئے ۔
Comments are closed.