وادی کشمیر میں داعش کی موجودگی کا اندیشہ :پولیس
جاں بحق جنگجو آئی ایس آئی ایس سے متاثر
سری نگر:۲۲،جون:کے این این/ ریاستی پولیس نے وادی کشمیر میں داعش کی موجودگی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری گفوارہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو عسکری تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) سے متاثر تھے۔ پولیس ترجمان نے ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پروفائیل اور خفیہ جانکاری سے اشارہ ملتا ہے کہ جاں بحق جنگجو ’آئی ایس آئی ایس ‘ عسکری تنظیم سے متاثر تھے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سری گفوارہ جھڑپ کے سلسلے میں پولیس ترجمان نے ایک تحریری بیان جاری کیا ،جس میں پولیس نے وادی میں داعش کی موجودگی کا اندیشہ ظاہر کیا ۔انہوں نے بیان میں کہا کہ کھیرام سری گفوارہ میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوج ،سی آر پی ایف اور پولیس نے مشترکہ طور پر جمعہ کی صبح جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق مشترکہ فورسز کی ایک پارٹی جب اُس رہائشی مکان کی طرف جارہی تھی ،جہاں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی ،پر جنگجوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کی ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ابتدائی فائرنگ میں پولیس اہلکار عاشق حسین اور53سالہ ایک عام شہری محمد یوسف راتھر ولد گل محمد ساکنہ نوشہرہ کھیرام سری گفوارہ زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے جبکہ کئی دیگر عام شہری زخمی ہوئے ،جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔پولیس نے جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کی شناخت داؤد احمد صوفی ،ماجد منظور ڈار ،عادل رحمان بٹ اور محمد اشرف ایتو کے ناموں سے کی ۔پولیس ترجمان کے مطابق 33سالہ داؤد احمد صوفی ولد محمد سبحان ساکنہ زینہ کوٹ ایچ ایم ٹی سرینگر نامی جنگجو کئی پتھراؤ واقعات میں ملوث تھا ۔انہوں نے کہا کہ جنگجو بننے کے بعد مزکورہ جنگجو کئی جنگجویانہ کارروائیوں میں ملوث تھا جبکہ یہ اے ایس آئی غلام محمد اور ہیڈ کانسٹیبل نصیر احمد بمقام باغ علی مردان کان ذڈی بل کی ہلاکت میں بھی ملوث تھا جبکہ مذکورہ جنگجو ٹینگ پورہ بٹہ مالو میں پولیس اہلکار کی ہلاکت اور رائفل چھینے میں بھی ملوث تھا ۔پولیس ترجمان کے مطابق ماجد منظور ڈار ساکنہ پلوامہ اپنے ساتھی عادل رحمان بٹ ساکنہ بجبہاڑہ اور محمد اشراف ایتو ساکنہ سری گفوارہ کے ساتھ سرگرم تھا ۔پولیس ترجمان کے مطابق داؤد تحریک المجاہدین عسکری تنظیم سے وابستہ جو سوشل میڈیا پر زیادہ تر سرگرم ہے جبکہ اس تنظیم کے عساکر زیادہ ڈیوٹی کے دوران مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں ۔پولیس ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پروفائیل اور خفیہ جانکاری سے اشارہ ملتا ہے کہ جاں بحق جنگجو ’آئی ایس آئی ایس ‘ عسکری تنظیم سے متاثر تھے ۔انہوں نے انکاؤنٹر کی جگہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولی بارود کے علاوہ قابل اعتراض میٹریل ضبط کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی نسبت کیس بھی درج کیا گیا ۔
Comments are closed.