گور نر راج میں پہلا بڑا جنگجو مخالف آپریشن ،سری گفوارہ میں جھڑپ

4عساکر ،ایس اوجی اہلکار ،عام شہری ہلاک
خاتون،2فوجی اہلکاروں سمیت متعدد زخمی ،کئی ایک سرینگر منتقل ، ایچ ایم ٹی سمیت کئی مقامات پر پُرتشدد جھڑپیں

سری گفوارہ:۲۲،جون:کے این این/ جنوبی قصبہ بجبہاڑہ کے مضافاتی گاؤں سری گفوارہ نو شہرہ میں جمعہ کو عسکریت پسندوں اور فوج وفورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں ایچ ایم ٹی سرینگر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ جنگجو کمانڈر سمیت 4عساکر ،ایس او جی اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو اجبکہ طرفین کے مابین شدید گولہ باری میں ایک خاتون ،2فوجی اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے جن میں کئی ایک کو تشویشناک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شبانہ جنگجو مخالف آپریشن کے بعد عسکریت پسند وں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کے دوران چار عسکریت پسند ،ایک ایس اوجی اور عام شہری ہلاک جاں بحق ہوئے ۔اس دوران زینہ کوٹ ایچ ایم ٹی سمیت مقام جھڑپ کے نزدیک اور پلوامہ کے کئی علاقوں میں ہڑتال کے بیچ مشتعل نوجوانوں اور پولیس وفورسز کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں ،جس دوران پتھراؤ ،جوابی پتھراؤ ،ٹیر گیس شلنگ، پیلٹ فائرنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت اسپتال میں نازک ہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سری گفوارہ بجبہاڑہ کے مضافاتی گاؤں نوشہرہ اننت ناگ میں عسکریت پسندوں اور فوج وفورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں ایچ ایم ٹی سرینگر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ جنگجو کمانڈر سمیت 4عساکراور ایک ایس او جی اہلکار ہلاک ہو ا ۔اس دوران طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے کے دوران ایک خاتون ،2فوجی اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر کے سریگفوارہ قصبہ کے مضافات میں نوشہرہ کے مقام پر جمعہ کی علی الصبح سے جنگجووں اور سرکاری فورسز کے مابین خونریز جھڑپ میں چار عساکر ، ایک عام شہری اور ایک پولس اہلکار کی موت ہوگئی ہے جبکہ کم از کم دو فوجی اہلکار شدید زخمی ہیں جنہیں علاج و معالجہ کیلئے اسپتال پہنچایا گیا ہے۔یہاں کے ایک گھر میں جنگجووں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملنے پر فوج کی 3آر آر،سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولس کی ایک مشترکہ پارٹی نے گاؤں کا محاصرہ کر لیا ۔فوج کا کہنا ہے کہ محاصرہ کئے جانے کے دوران جنگجووں نے زبردست فائرنگ کی اور ابتدائی حملے میں ہی اسکے دو اہلکار ،دو عام شہری اور ایک پولس اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے بعدازاں ایک پولس اہلکار اور ایک عام شہری نے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔تاہم معلوم ہوا ہے کہ مارے جاچکے عام شہری اس مکان کے مالک ہیں کہ جہاں جنگجووں نے پناہ لی ہوئی ہے۔انکا نام محمد یوسف راتھر بتایا گیا ہے جبکہ انکی زوجہ حفیظہ بھی شدید زخمی ہیں اور میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کی جاچکی ہیں۔لوگوں کا الزام ہے کہ فوج نے آتے ہی اس مکان پر اندھادند فائرنگ کی جس سے مکان مالک اور مالکن زخمی ہوگئیں،راتھر کو اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوران جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپ جاری رہی ،جس دوران یہ پورا علاقہ گولیوں کی گن گھرج اور دھماکوں سے لرز اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ انکاؤنٹر کے دوران کئی شہریوں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں ،کو بحفاظت گاؤں سے باہر نکالا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ انکاؤنٹر شروع ہونے کے ساتھ ہی لوگوں نے مزاحمت بھی کی ،تاکہ جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوسکے ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز نے انکاؤنٹر کے اُس رہائشی مکان کو بارود سے اُڑا دیا۔ذرائع نے بتایا کہ تاہم جنگجو ؤں جھڑپ کے دوران دو گروپوں میں بٹ گئے تھے ،جنہوں نے فوج فورسز کو کئی گھنٹوں تک جھڑپ میں الجھا کر رکھا ۔ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران4جنگجو جاں بحق ہوئے ،جن میں ایک اعلیٰ کمانڈر بھی ہے جس کا تعلق سے سرینگر ہے ۔پو لیس نے جاں بحق 4جنگجوؤں کی شناخت داؤد سلفی عرف بر ہان ساکنہ ایچ ایم ٹی سرینگر ،ماجد منظور ڈار ساکنہ تالنگام اونتی پورہ ،اشرف ایتو ساکنہ ہاتھی گام سری گفوارہ اور عادل حسن میر ساکنہ شی پورہ سر ی گفوارہ کے ناموں سے کی جبکہ مہلوک ایس اوجی اہلکار کی شناخت عاشق حسین کے بطور ہوئی۔اس دوران ضلع پولیس لائنز اننت ناگ میں ایک تعزیتی گلباری تقریب منعقد ہوئی جس دوران پولیس کے اعلیٰ آفیسران نے پولیس اہلکارعاشق حسین کے تابوت پر گلباری کی اور خراج پیش کیا ۔جمعہ کے روز ضلع پولیس لائنز اننت ناگ میں منعقدہ تعزیتی گلباری تقریب میں پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے مہلوک اہلکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار نے ڈیوٹی کے دوران قابل فراموش قربانی دی ہے ۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رمضان سیز فائر کے واپس لئے جانے کے بعد فورسز اور جنگجووں کے بیچ ہونے والی یہ دوسری لڑائی ہے کہ اس سے قبل گذشتہ دنوں جنوبی قصبہ ترال کے نازنین پورہ گاؤں میں ایک جھڑپ کے دوران جیشِ محمد کے 3جنگجو مارے گئے تھے۔گور نر راج میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا جنگجو مخالف آپریشن ہے ۔اس سے قبل جھڑ پ کی جگہ لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیاتھا ،جنہوں نے جنگجوؤں کو بچانے کیلئے فورسز پر شدید خشت باری کی ۔جوابی کارروائی کے دوران فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی جسکے نتیجے میں کئی احتجاجی زخمی ہوئے ،جن میں کئی ایک کو سرینگر منتقل کیا گیا ۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شبانہ جنگجو مخالف آپریشن کے بعد عسکریت پسند وں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کے دوران چار عسکریت پسند ،ایک ایس اوجی اور عام شہری ہلاک جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ گور نر راج سے قبل بھی جنگجو مخالف آپریشن جاری تھے اور آگے بھی جاری رہیں گے ۔جھڑپ کے حوالے سے فوج کا ردِ عمل : فوجی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس ،فوج اور سی آر پی ایف نے نوشہرہ سری گفوارہ اننت ناگ میں مشترکہ طور پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ،جس دوران ایک رہائشی مکان میں موجود جنگجوؤں نے فائرنگ کی ۔انہوں نے کہا کہ ایس او جی اہلکار اور عام شہری جنگجوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 2جنگجوجاں بحق کردئے گئے ۔انہوں نے جاری آپریشن کے دوران نالہ میں چھپے بیٹھے مزید 2جنگجوؤں نے فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں وہ بھی جاں بحق کردئے گئے ۔ان کا کہناتھا کہ اس آپریشن میں4جنگجو جاں بحق ہوئے جنکی نعشیں اسلحہ سمیت برآمد کی گئیں ۔ادھر ایچ ایم ٹی سرینگر سمیت جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں مقامی جنگجوؤں کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی تشدد بھڑک اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ سمیت کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل مظاہرین نے فورسز پر پتھراؤ کیا جسکے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے باعث20سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے کئی مقامات پر مظاہرین کو تتربتر کرنے کیلئے فائرنگ بھی کی جسکے نتیجے میں کئی زخمی ہوئے جن میں عبید احمد بھی شامل ہے ،جسکی گردن میں گولی لگے ہے اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا ،جہاں اُسکی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔انتظامیہ نے پلوامہ ،اننت ناگ اور سرینگر میں موبا ئیل انٹر نیٹ خد مات معطل کردئے جبکہ ریل سروس کو بھی احتیا طی اقدامات کے تحت معطل رکھا گیا ۔

Comments are closed.