امور دفاع کے وزیر مملکت ہنگامی طورپر سرینگر وارد ، سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

سرینگر؍09؍جون؍ جے کے این ایس؍؍ امور دفاع کے وزیر مملکت نے سرینگر میں ریاست کی تازہ ترین سیکورتی صورتحال کا اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران جائزہ لیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر مملکت نے بادامی باغ سرینگر میں فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کی ۔ جے کے این ایس کے مطابق امور دفاع کے وزیر مملکت سبھاش بھامرے اچانک وادی وارد ہوئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر مملکت نے بادامی باغ سرینگر میں ریاست خاص کرو ادی کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ ذرائع کے مطابق 15کارپس کمانڈر لفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے وزیر مملکت کو وادی کی تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کے بارے میں جانکاری فراہم کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ 15کارپس کمانڈر لفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے وزیر مملکت کو بتایا کہ وادی میں تعینات فوج عسکریت پسندوں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے فوج ایک منظم ادارے کی طرح اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں لوگ آتے ہیں جاتے ہیں کام کرنے کے طریقے کار بھی بدل جاتے ہیں تاہم فوج کے کام میں سست رفتاری واقع نہیں ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک منظم ادارے کی طرح اپنا کام جاری رکھی ہوئی ہے ملی ٹینسی کو کسی بھی صور ت میں پنپنے نہیں دیا جائے گا اور اسکے خلاف فوج اپنی جنگ جاری رکھے گی ۔ 15کارپس کے کمانڈر نے کہا کہ کشمیر کے حالات دن بدن بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور کنٹرول لائن پر فوج پوری طرح سے چوکس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے پاکستان زیر انتظام کشمیر سے بڑی تعداد میں عسکریت پسند اس طرف آنے کی تاک میں بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دراندازی کے واقعات کو روکنے کیلئے جدید طور طریقے اپنائے جا رہے ہیں اور فوج نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ دراندازی کے واقعات کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے امور دفاع کے وزیر مملکت نے بتایا کہ سرحدوں پر تعینات فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی جارحیت کا سختی کے ساتھ جواب دیا جائے اور فیلڈ کمانڈروں کو اس ضمن میں مکمل اختیارات دئے گئے ہیں۔

Comments are closed.