شمالی کشمیر کے مژھل ، کیرن اور نوگام سیکٹروں میں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے جاری معرکہ آرائی میں 8جنگجو ں فوجی اہلکار ہلاک تین زخمی

اوڑی میں فوج پر گھات لگا کر حملہ دو اہلکار مضروب۔ ایک درجن عسکریت پسند اس طرف آنے کی اطلاع کے بعد پونچھ کے سرحدی علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن شروع
شمالی کشمیر کے مژھل ، کیرن ، نوگام سیکٹروں میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان گھمسان کی جھڑپ ۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 8جنگجوؤں کو فوج نے مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ اس دوران ایک فوجی ہلاک جبکہ تین شدید طورپر زخمی ہوئے ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق دراندازی کے ذریعے سرحد عبور کرنے والے عسکریت پسند شمالی کشمیر کے جنگلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ادھر اوڑی میں کیکر پوسٹ کے نزدیک جنگجوؤں نے فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا 2فوجی اہلکار شدید طورپر زخمی نازک حالت میں بادامی باغ اسپتال منتقل ۔ دریں اثنا منڈی تحصیل پونچھ میں بھی بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ 12سے 15عسکریت پسند اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ہیں جنہیں مار گرانے کیلئے تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کے احکامات صادر کرنے کے بیچ شمالی کشمیر کے جنگلوں میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان دوسرے روز بھی شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ نمائندے کے مطابق جمعرات کو فوج نے اپنے آپریشن میں مزید تیزی لاتے ہوئے کئی اور جنگلی علاقو ں کو گھیرے میں لیا اور جو ں ہی فوج نے مورچہ سنبھا لا تو وہا ں چھپے بیٹھے جنگجوو ں اور فوج کا دوبارہ آ منا سا منا ہو ا جس کے بعد طرفین کے درمیان زبردست فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو ا جسمیں ابتدائی طور ایک فوجی ہلاک جبکہ ۳جنگجو جا ں بحق ہوئے۔ جھڑپ میں اہلکار زخمی بھی ہوا۔ فوج کو پتہ چلا کہ اس علاقے میں 3سے 4جنگجووں چھپے بیٹھے ہیں جس کے بعد فوج نے اس علاقہ کے ایک وسیع حصہ کو محاصرہ میں لیکر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ جو نہی فوج اس جنگلی علاقہ میں داخل ہوگئی تو وہا ں چھپے بیٹھے جنگجووں نے فوج پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد طرفین کے درمیان مختصر جھڑپ ہوئی جس دوران مزید ایک عسکریت پسندوں کو مار گرایا گیا۔اس سے پہلے بدھوار شام سات بجے کے قریب فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ مژھل سیکٹر میں دراندازی کے دوران چار عدم شناخت جنگجوؤں کو مار گرایا گیا ہے جن کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے جاری جھڑپ کے دوران اب تک 8عسکریت پسند جاں بحق ہوئے جبکہ ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تین شدید طورپر زخمی ہوئے ۔ دفاعی ترجمان کرنل منیش نے شمالی کشمیر کے جنگلوں میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے مژھل اور نوگام سیکٹروں میں 8عسکریت پسندوں کو مار گرایا گیا ہے۔ دفاعی ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں کے ابتدائی حملے میں ایک فوجی بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ دیگر تین زخمی ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ مژھل ، کیرن، نوگام اور اوڑی سیکٹروں میں وسیع پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا اس دوران فضائیہ کے ساتھ ساتھ پیرا کمانڈوز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگلوں میں چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں کو ڈھیر کرنے کیلئے فوج کی اضافی کمک کوبھی روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرحد کے اُس پار بڑی تعداد میں جنگجوؤں اس طرف آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے سے سات مرتبہ جنگجوؤں نے دراندازی کی کوشش کی تاہم متحرک اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو خاک میں ملایا ۔ ادھر اوڑی کے کیکر پوسٹ کے نزدیک جنگجوؤں نے فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق جمعرات صبح سویرے عسکریت پسندوں نے اوڑی کے کیکر پوسٹ کے نزدیک 4جیک لے رجمنٹ پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا ، فوج نے بھی جوابی کارروائی کی جس دوران کئی منٹوں تک دوبدو گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق عسکریت پسند فوج کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم فوجی ذرائع نے بتایا کہ اوڑی کے جنگلوں میں بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ دریں اثنا عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس وفورسز نے پونچھ کے منڈی تحصیل سرحدی علاقہ کا محاصرہ کیا اس دوران تلاشی کارروائی شروع کی گئی ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ دراندازی کے ذریعے 12سے 15جنگجو اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ہیں جنہیں مار گرانے کیلئے جنگجو مخالف آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق 25آر آر اور ایس او جی جموں نے بدھوار اور جمعرات کی درمیانی رات کو پونچھ کے کئی سرحدی علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع جو صبح دس بجے تک جاری تھی ۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگل میں موجود عسکریت پسند پولیس وفورسز کی بھاری تعداد کو دیکھتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق 5سے 6عسکریت پسند جین والی گلی روٹ سے وادی کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق برف پگھلنے کے ساتھ ہی دراندازی کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا اگر چہ فوج نے پچھلے دو ہفتوں سے لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر کئی کامیاب آپریشن کئے جس دوران ایک درجن سے زائد جنگجوؤں کو مار گرایا گیا تاہم اس کے باوجود بھی پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے عسکریت پسند اس طرف آرہے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر تعینات فیلڈ کمانڈروں کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیز فائر معاہدے کی آڑ میں پاکستانی رینجرس عسکریت پسندوں کو اس طرف دھکیل رہے ہیں تاہم سرحدی علاقوں میں تعینات فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دراندازی پر روک لگانے کیلئے مرکزی حکومت نے لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر اضافی چار ہزار اہلکار وں کو تعینات کیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کابھی مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستانی جارحیت کا موقعے پر ہی سختی کے ساتھ جواب دیا جاسکے۔

Comments are closed.