کلاروس کپوارہ میں سٹون کریشر اور میگڈم پلانٹ لوگو ں اور سکولی بچو ں کے لئے درد سر

کپوارہ:۲۸،مئی:کے این این/ سرحدی ضلع کپوارہ کے سرکلی کلاروس لولاب میں غیر قانونی طور چلائے جانے والے سٹون کریشر اور میگڈم پلانٹ لوگو ں اور سکولی بچو ں کے لئے درد سر بنا ہو اہے ۔اس سلسلے میں کے این این کو ملی تفصیلات کے مطابق انہو ں نے مطالبہ کیا اس پلانٹ کو فوری طور بند کیا جائے تاکہ ماحول کو مزید خراب ہونے سے بچایا جاسکے۔معلوم ہوا ہے کہ لولاب کے سرکلی کلاروس میں عرصہ دراز سے سٹون کریشر اور ہا ٹ اینڈ ویٹ میکس پلانٹ اقبال سٹون کریشر اور اقبال کنسٹریکشن کے نام سے چل رہا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس پلانٹ کی وجہ سے لوگو ں کا سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔سرکلی کے ایک مقامی شہری غلام محمد کے مطابق سٹون کریشر پلانٹ کے بالکل نزدیک تین سرکاری سکول قائم ہیں جبکہ مقامی آ بادی بھی اس کے قریب ہے جس کے نتیجے میں اس سٹون کریشر پلانٹ کے گردو غبار کی وجہ سے سکولی بچو ں کے صحت پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ یہ سٹون کریشر پلانٹ اس لحاظ سے بھی غیر قانونی ہے کہ یہ نالہ کلاروس کے کنارے پر قائم کیا گیا اوراس سے نکلنے والے فضلہ اور گندگی کی وجہ سے پینے کا صاف پانی بھی گندہ ہو تا ہے اور مزکورہ نالہ کا پانی نا قابل استعمال بن گیا ہے جبکہ مزکورہ نالہ کی ہیت بھی بگڑ چکی ہے ۔ایک طالب علم سہیل احمد نے بتا یا کہ مزکورہ سٹون کریشر پلانٹ یہا ں پر قائم سکولو ں کے اعتبار سے بھی غیر قانونی ہے کیونکہ ایک تو اس کے شور سے طالب علم ذہنی کوفت میں مبتلا ہوتے ہیں دوم یہ کہ اس سے اٹھنے ولا گرد و غبار کی وجہ سے ان ما حول انتہائی گندہ ہو تا ہے اور اس سے ان کی پڑھائی متا ثر ہویے ہے اور یہ سٹون کریشر آ بادی اور سرکاری سکولو ں سے ایک کلو میٹر دو ر ہو نا چایئے لیکن یہ سٹون کریشر پلانٹ یہا ں پر قائم سرکاری سکولو ں سے چند سو میٹرکی دوری پر ہے ۔مقامی لوگو ں نے الزام لگایا کہ جب اس پلانٹ کو یہا ں پر قائم کیا گیا تو اس وقت لوگو ں نے اس وجہ سے اعتراض کیا کہ ایک تو اس کے متصل تین سرکاری سکول قائم ہیں دوم یہ کہ اس کی وجہ سے نالہ کلاروس بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا لیکن مزکورہ سٹون کریشر کو سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر یہا ں پر قائم کیا گیا۔محکمہ تعلیم کے ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ مذکورہ سٹون کریشر کو چلانے کے لئے زونل ایجو کیشن آ فیسر خمریال نے گزشتہ سال ایک اجازت نامہ زیر نمبر ZEO/ESTT/258/597 بتاریخ 7/4/201دیا گیا ۔تاہم محکمہ کے ایک اعلیٰ آفیسر نے بتا یا کہ مذکورہ زونل ایجو کیشن آفیسر نے جو اجازت نامہ دیا ہے وہ سراسر غلط ہے اور انہو ں نے تمام شرائط بالائے طاق رکھ دیئے ۔اس حوالہ سے پولوشن کنٹرول بورڈ کو ایک شکایت ملی کہ مذکورہ سٹون کریشر پلانٹ غیر قانونی طور چلا یا جاتا ہے جبکہ اس کے چلائے جانے کے جو شرائط ہوتے ہیں وہ بالائے طاق رکھے گئے ہیں ۔پو لو شین بورڈ نے سٹون کریشر کے مالک کو با ضابطہ طور ایک نو ٹس زیر نمبر SPCB/ROK/LS/18/1221..22..Dated..21/4/2018دی جس میں کہا گیا کہ سٹون کریشر کو چلانے کے لئے جو آ لات ہوتے ہیں ان کو پورا کیا جائیں اور اس کے لئے 15روز کی مہلت دی گئی اگر نہیں تو محکمہ کی جانب سے جو عارضی اجاز ت نامہ اجراء کیا گیا ہے اس کو منسوخ کیا جائے گا یا بصورت دیگر سٹون کریشر کو مکمل طور بند کیا جائے گا ۔ذرائع سے معلوم ہو اہے سٹون کریشر کو چلانے کے لئے دیوار بندی ،اس کے ارد گرد پیڑ پودے اور درخت اگانے اور دیگر لو ازمات ضروری ہے تاکہ ما حول متاثر ہونے سے بچ جائے جو مزکورہ سٹون کریشر چلانے کے لئے سرے سے ہی دستیاب نہیں ہے ۔اس حوالہ جب ریجنل ڈائریکٹر پو لو شن کنٹرول بورڈ سے رابطہ کیا تو انہو ں نے بتا یا کہ وہ عنقریب ایک ٹیم تشکیل دیں گے جو موقع پر جاکر صورتحال کو جائزہ لے گی اور وہ اپنا رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعدہی کوئی بھی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں کوئی بھی علمیت نہیں ہے لیکن اگر ایسا معاملہ ہے تو وہ اس حوالے سے ایک رپورٹ طلب کریں گے ۔

Comments are closed.